پاکستان ریلویز کا پہلی بار عالمی مالیاتی معیارات کے تحت آڈٹ ہوگا
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان ریلویز کے حسابات کا پہلی بار IFRS کے تحت آڈٹ ہوگا۔ یہ آڈٹ مالی سال 2025-26 کا ہوگا اور اس کے لیے بین الاقوامی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم رکھی جائے گی۔

- پاکستان ریلویز کے مالیاتی گوشواروں کا پہلی بار IFRS کے تحت آڈٹ ہوگا
- آڈٹ مالی سال 2025-26 کا ہوگا
- آڈٹ فرم کا انتخاب میرٹ پر ای پیڈز پورٹل کے ذریعے ہوگا
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان ریلویز کے مالیاتی گوشواروں کا پہلی بار بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات (IFRS) کے تحت آڈٹ کرایا جائے گا۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق ادارے کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے، اور آڈٹ مالی سال 2025-26 سے متعلق ہوگا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اس مقصد کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ فرم کا انتخاب میرٹ پر اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد کے مطابق کیا جائے گا۔
انتخاب کا پورا عمل ای پیڈز پورٹل کے ذریعے مکمل کیا جائے گا تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔ رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ فرم کا تقرر کب ہوگا اور آڈٹ کے نتائج کب جاری کیے جائیں گے۔
یہ اقدام ایس او ای ایکٹ 2023 کے تحت مالی نظم و ضبط، اندرونی کنٹرول اور ادارہ جاتی شفافیت کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
حنیف عباسی نے کہا کہ آزاد آڈٹ رپورٹ کی روشنی میں سخت اور ضروری فیصلے کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا: "پاکستان ریلویز میں شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ادارے کے ایک ایک روپے کا حساب لیا جائے گا"۔
وزیر ریلوے کے مطابق کرپشن کا خاتمہ اور مکمل مالی احتساب حکومت کی ترجیحات ہیں۔ ڈیلی پاکستان نے انہیں یہ کہتے نقل کیا کہ کرپشن کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
حنیف عباسی نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف پاکستان ریلویز کی کارکردگی اور اصلاحات کے عمل کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مقصد ادارے کو مالی طور پر خود کفیل، شفاف اور مستحکم بنانا ہے، اور مالی شفافیت اور مؤثر نگرانی کے ذریعے عوامی وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جائے گا۔
یہ کیوں اہم ہے
لاکھوں پاکستانی ریلوے سے سفر کرتے ہیں اور اس کا خرچ عوامی پیسہ ہے، اس لیے آزاد آڈٹ سے اس رقم کے حساب کتاب کا تعلق بنتا ہے۔



