27 اکتوبر کو انٹربینک میں روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 276.80 پر بند
بزنس ریکارڈر کے مطابق منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسے کے اضافے سے 276.80 پر بند ہوا۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر 280.15 روپے میں فروخت ہوا۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- 27 اکتوبر کو انٹربینک میں ڈالر 276.80 روپے پر بند، پیر کو 276.81 تھا
- اوپن مارکیٹ میں ڈالر 277.45 پر خریدا اور 280.15 پر فروخت ہوا
- نیشنل بینک کے نرخ: ڈالر فروخت 278.59 اور خرید 275.59
بزنس ریکارڈر کے مطابق منگل 27 اکتوبر کو انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے نے ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی۔ روپیہ 276.80 پر بند ہوا، جو پیر کے 276.81 کے مقابلے میں 1 پیسے کا اضافہ ہے۔
ڈیلی پاکستان کے مطابق کراچی کی اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر 277.45 روپے میں خریدا اور 280.15 روپے میں فروخت کیا گیا۔ برطانوی پاؤنڈ کی خرید 370.95 اور فروخت 375.13 روپے رہی، جبکہ یورو 311.49 روپے میں خریدا اور 315.99 روپے میں فروخت ہوا۔
یو اے ای درہم کی خرید 75.5 اور فروخت 76.35 روپے رہی۔ سعودی ریال، جس پر سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی اور ترسیلاتِ زر وصول کرنے والے خاندان نظر رکھتے ہیں، 73.80 روپے میں خریدا اور 74.40 روپے میں فروخت کیا گیا۔
اسی فہرست میں کویتی دینار سب سے مہنگا رہا، جس کی خرید 881.35 اور فروخت 892.50 روپے تھی۔ بحرینی دینار 734.95 اور 746.98 روپے، اور عمانی ریال 719.85 اور 731.83 روپے پر رہا۔ کینیڈین ڈالر 196.68 اور 204.59 روپے، جبکہ آسٹریلوی ڈالر 193.23 اور 200.41 روپے میں دستیاب تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے نیشنل بینک آف پاکستان کے جاری کردہ نرخ شائع کیے۔ ان کے مطابق امریکی ڈالر کی فروخت 278.59 اور خرید 275.59 تھی، جبکہ برطانوی پاؤنڈ کا پہلا نرخ 371.75 دیا گیا۔
بین الاقوامی سطح پر بزنس ریکارڈر کے مطابق ڈالر انڈیکس منگل کو ایک ہفتے کی بلند سطح کے قریب 102.04 پر مستحکم رہا۔ رپورٹ کے مطابق وال اسٹریٹ پر ٹیکنالوجی شعبے کی قیادت میں بحالی سے خطرہ مول لینے کا رجحان لوٹا، جبکہ سرمایہ کار بڑی کمپنیوں کے نتائج اور امریکی وسط مدتی انتخابات کے منتظر ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
زرمبادلہ کے نرخ درآمد کنندگان، مسافروں اور ترسیلاتِ زر وصول کرنے والے خاندانوں پر اثر ڈالتے ہیں، جو ڈالر، پاؤنڈ اور خلیجی کرنسیوں کے نرخ دیکھتے ہیں۔



