ریفائنریاں پیٹرول پر اضافی پریمیم واپس کریں گی، 14.71 روپے ریلیف کی اطلاع
حکومت نے پیٹرول کی قیمت کا طریقہ بدل دیا ہے، اب ریفائنریاں درآمدی اور ایکس ریفائنری قیمت کا فرق پیٹرولیم لیوی کے طور پر جمع کرائیں گی۔ دی نیشن بزنس کے مطابق صارفین کو 14.71 روپے کا ریلیف ملنا شروع ہو گیا ہے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- ریفائنریاں درآمدی اور ایکس ریفائنری قیمت کا فرق پیٹرولیم لیوی کے طور پر جمع کرائیں گی۔
- اس کا فائدہ پیٹرول کی خوردہ قیمت میں کمی کے ذریعے صارفین کو دیا جائے گا۔
- دی نیشن بزنس کے مطابق صارفین کو 14.71 روپے ریلیف مل رہا ہے۔
- اوگرا نے ریفائنریوں کو 49 روپے سے زائد کی ایڈجسٹمنٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت طے کرنے کا طریقہ تبدیل کر دیا ہے، جس کے تحت ریفائنریوں کو درآمدی قیمت اور ایکس ریفائنری قیمت کا فرق پیٹرولیم لیوی کے طور پر جمع کرانا ہو گا۔ اس کا فائدہ پیٹرول کی خوردہ قیمتوں میں اسی حساب سے کمی کر کے صارفین کو دیا جائے گا۔
دی نیشن بزنس کے مطابق ریفائنریوں کو جنگ کے دوران لیا گیا اضافی پریمیم چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان میں پیٹرول صارفین کو 14.71 روپے کا ریلیف ملنا شروع ہو گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے اوگرا اور تیل صاف کرنے والی کمپنیوں کو الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کیے۔ یہ اقدام 30 اکتوبر کو وفاقی کابینہ کی جانب سے موٹر اسپرٹ کی قیمت کے طریقہ کار میں تبدیلیوں کی منظوری کے بعد کیا گیا۔ تبدیلیاں ایران اور امریکا کی جاری جنگ کے دوران قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے لیے کی گئیں۔
نئے نظام میں پیٹرول کی درآمدی قیمت متعلقہ پی ایس او کارگو کی اصل درآمدی لاگت پر مبنی ہو گی۔ اگر کسی دن کی قیمت کے لیے اصل لاگت دستیاب نہ ہو تو آخری دستیاب کارگو کا پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی استعمال کی جا سکتی ہے۔
اگلے 30 دن تک ریفائنریوں کو ایسی ایکس ریفائنری قیمت ملے گی جس میں پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی 7 مارچ 2026 کی سطح پر طے رہیں گے۔ یہ فرق پیٹرولیم لیوی کے اکاؤنٹ ہیڈ C03901 میں جمع کرانا ہو گا، اور ریفائنریوں کو اوگرا کی قیمت اور پیٹرولیم لیوی کے نوٹیفکیشنز کے تحت رقم جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ریفائنریوں کو پیٹرول کی مقامی فروخت کی یومیہ رپورٹ، کمپیوٹرائزڈ ادائیگی کی رسیدوں اور چالانوں کے ساتھ پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کو بھیجنا ہو گی۔ ذرائع کے مطابق نئے فارمولے کا مقصد یہ ہے کہ ریفائنریوں کے دعوے کے مطابق زیادہ پریمیم اور فریٹ کا پورا بوجھ صارفین پر نہ پڑے۔ اوگرا نے ریفائنریوں کو 49 روپے سے زائد کی ایڈجسٹمنٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔
حکام کے مطابق 30 اکتوبر کو نئے فارمولے کے تحت اعلان کردہ قیمتوں سے بڑے اضافے سے بچا جا سکا۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ 12 سے 13 ملین مستحق افراد کو جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر رعایتی پیٹرول دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت عمومی سبسڈی سے ہٹ کر ٹیکنالوجی کی مدد سے مستحق افراد کی امداد کی طرف گئی ہے اور جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں انہیں ایندھن پر سبسڈی نہیں دی گئی۔
وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایندھن کی قیمتوں میں شفافیت کے لیے متعلقہ معلومات عوام کو دستیاب کی گئی ہیں، اور عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے پر صارفین کو ریلیف کے لیے ان سے یا وزیر اعظم سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان بھر میں پیٹرول خریدنے والوں کو ریفائنریوں کی جانب سے اضافی پریمیم واپس کرنے سے قیمت میں ریلیف مل رہا ہے، اور نیا فارمولا خوردہ قیمتوں کے تعین پر اثر انداز ہوتا ہے۔


