ابھی ابھیحکومت کا پیٹرولیم لیوی ختم کرنے سے انکار، بعض شعبوں کو ایندھن میں رعایتامریکی وسط مدتی انتخابات 2026: کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ووٹروں کے ہاتھ میںپیٹرولیم قیمتوں میں مزید ریلیف کا عندیہ، ایل پی جی مارکیٹ مسابقت کے لیے کھلے گی
کاروبار5 ذرائع سے تصدیق شدہ

ریفائنریاں ماہانہ 15 ارب روپے برداشت کریں گی، پیٹرول 15 روپے سستا: حکومت

حکومت کے مطابق ریفائنریاں ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا بوجھ اٹھائیں گی تاکہ پیٹرول 15 روپے فی لیٹر سستا بکے۔ 3 نومبر سے پیٹرول 3.40 روپے کم ہو کر 374.51 روپے فی لیٹر ہو جائے گا۔

Photo: refinery, oil, industry, silhouette
Photo: refinery, oil, industry, silhouette تصویر: SatyaPrem / Pixabay

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • حکومت کے مطابق ریفائنریاں ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا بوجھ اٹھائیں گی۔
  • پیٹرول 3.40 روپے کم ہو کر 374.51 اور ڈیزل 7.76 روپے کم ہو کر 395.20 روپے فی لیٹر ہوگا۔
  • اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں 3 نومبر سے نافذ ہوں گی۔
15 ارب روپےریفائنریوں کا ماہانہ بوجھ
374.51 روپے فی لیٹر3 نومبر سے پیٹرول کی قیمت
395.20 روپے فی لیٹر3 نومبر سے ڈیزل کی قیمت
1 کروڑ 50 لاکھ سے زائدسبسڈی اسکیم کے رجسٹرڈ صارفین

حکومت نے پیر کو کہا کہ تیل کی ریفائنریاں ہر ماہ تقریباً 15 ارب روپے کا بوجھ برداشت کریں گی، جس سے پیٹرول عالمی منڈی کی قیمت سے 15 روپے فی لیٹر سستا فروخت ہو سکے گا۔ یہ اعلان اسلام آباد میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس میں کیا۔ رپورٹس میں عالمی قیمتوں کے دباؤ کو ایران پر امریکی اسرائیلی جنگ سے جوڑا گیا ہے۔

ڈیلی ٹائمز کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے ریفائنریوں سے ملاقات کی اور ایندھن کی قیمتوں میں متوقع بڑے اضافے کے دوران پیٹرول سستا رکھنے کے اقدامات پر مشاورت کی۔ جمعے کو پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 15 روپے فی لیٹر اضافہ ہونا تھا جو روک دیا گیا۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ ریفائنریوں نے یہ اضافہ جذب کرنے میں حکومت کی مدد کی۔

ان کے مطابق ریفائنریوں نے گزشتہ تین ماہ میں پیداواری استعداد بڑھائی اور اس سے منافع کمایا۔ انہوں نے کہا کہ بحران سے پہلے ریفائنریوں کا پریمیم 5 ڈالر فی بیرل تھا اور اب اس کی حد 20 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مزید مشکلات کی صورت میں عوام کے تحفظ کے لیے حکومت کو آگے آنا پڑے گا۔ علی پرویز ملک نے کہا: "حکومت کسی کے ساتھ ظلم نہیں کرنا چاہتی" (انگریزی سے ترجمہ)۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ علاقائی بحران ختم ہوتے ہی حکومت ڈی ریگولیشن کی طرف واپس جائے گی، فی الحال توجہ عوامی ریلیف پر ہے۔ ان کے مطابق نومبر کی ایندھن سپلائی مکمل طور پر یقینی ہے، جبکہ دسمبر اور جنوری کی سپلائی کے فیصلے کیے جائیں گے اور وزیر اعظم ضروری اقدامات کی ہدایت دے رہے ہیں۔

الگ سے حکومت نے پیٹرول کی قیمت 3.40 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 7.76 روپے فی لیٹر کم کر دی۔ اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق منگل 3 نومبر سے پیٹرول 374.51 روپے اور ڈیزل 395.20 روپے فی لیٹر پر دستیاب ہوگا۔ حکومت پیٹرول پر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیاں وصول کر رہی ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے معاشی اشاریے بڑی حد تک مستحکم رہے ہیں اور معیشت دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کی 13 ستمبر کو اعلان کردہ سبسڈی اسکیم کی تفصیل بتائی: موٹر سائیکل سوار ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹر ہو کر ہفتہ وار 500 روپے کی پیٹرول رعایت لے سکتے ہیں، جبکہ 800 سی سی کار والوں کو ہر 10 دن میں 10 لیٹر پیٹرول 100 روپے فی لیٹر کم پر ملتا ہے۔

تارڑ کے مطابق اسکیم کے رجسٹرڈ صارفین 1 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں اور اب تک تقریباً 27 ارب روپے ریلیف کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وزراء نے کہا کہ یہ ریلیف چھوٹی کاروں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے مالکان کو دیا گیا۔ تارڑ نے کہا: "یہ ایسا منفرد ریلیف ہے جو دنیا میں کہیں اور دستیاب نہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔

یہ کیوں اہم ہے

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ملک بھر میں ٹرانسپورٹ اخراجات اور گھریلو بجٹ پر اثر ڈالتی ہیں۔ موٹر سائیکل اور چھوٹی کار مالکان کو ایندھن سبسڈی اسکیم کے تحت رعایت بھی مل سکتی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پیٹرول کی قیمتیںریفائنریاںاوگرا

اس خبر پر مزید