راولپنڈی میں ڈینگی کے کیسز 84 ہو گئے، اس سال 6 ہزار 382 افراد کی اسکریننگ
ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے مطابق راولپنڈی میں ڈینگی کے تصدیق شدہ کیسز 84 تک پہنچ گئے ہیں۔ اس سال ضلع میں ڈینگی سے کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، طبی مشورہ نہیں۔ اپنی صحت کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
- راولپنڈی میں ڈینگی کے تصدیق شدہ کیسز 84 ہو گئے، 24 گھنٹوں میں ایک نیا کیس آیا۔
- اس سال ڈینگی کے شبے میں 6 ہزار 382 افراد کی اسکریننگ ہوئی۔
- اس سال راولپنڈی میں ڈینگی سے کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔
- ایس او پیز کی خلاف ورزی اور لاروا ملنے پر 2 ہزار 798 مقدمات درج ہوئے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے مطابق راولپنڈی میں ڈینگی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 84 ہو گئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایک نیا کیس سامنے آیا، جبکہ اس سال ضلع میں ڈینگی سے کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اس سال ڈینگی کے شبے میں 6 ہزار 382 افراد کی اسکریننگ کی گئی، جس کے دوران 5 ہزار 862 مشتبہ کیسز سامنے آئے۔ سات تصدیق شدہ مریض اسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور ایک مشتبہ مریض زیر نگرانی ہے۔ مجموعی طور پر 435 مریض اسپتالوں میں داخل کیے گئے۔ ایکسپریس نیوز کی بعد کی خبر میں محکمہ صحت کے حوالے سے بتایا گیا کہ اسپتالوں میں 6 ہزار 397 مریضوں کی اسکریننگ ہوئی، جبکہ نوائے وقت نے ڈینگی کے شبے میں داخل مریضوں کی تعداد 438 بتائی۔
ماہ وار اعداد کے مطابق راولپنڈی میں اکتوبر میں ڈینگی کے 51 اور ستمبر میں 27 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اگست میں کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
روک تھام کے لیے 1,400 ٹیمیں فیلڈ میں سرگرم ہیں، جن میں 415 آؤٹ ڈور اور 985 اِن ڈور ٹیمیں شامل ہیں۔ راولپنڈی میں پی آئی ٹی بی کے پاس 17 ہزار 859 ڈینگی ہاٹ اسپاٹس رجسٹرڈ ہیں، اور گزشتہ ہفتے 99 فیصد سرویلنس کوریج مکمل کی گئی۔
اس سال 58 لاکھ 96 ہزار 856 گھروں کی چیکنگ کی گئی اور 2 لاکھ 15 ہزار 143 گھروں میں ڈینگی لاروا ملا۔ 20 لاکھ 33 ہزار 692 دیگر مقامات دیکھے گئے جن میں سے 27 ہزار 539 میں لاروا پایا گیا۔ اب تک راولپنڈی میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 42 ہزار 682 ڈینگی لاروے کی نشاندہی ہوئی ہے۔
خلاف ورزیوں پر بھی کارروائی کی گئی۔ ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی اور لاروا ملنے پر 2 ہزار 798 مقدمات درج کیے گئے۔ لاروا ملنے پر 686 مقامات سیل کیے گئے اور 2 ہزار 331 چالان جاری ہوئے۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 31 لاکھ 56 ہزار روپے جرمانے کیے گئے۔
یہ اعداد و شمار ایکسپریس نیوز اور نوائے وقت نے محکمہ صحت اور ضلعی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیے۔ زیر علاج اور اسکریننگ کی تعداد میں معمولی فرق مختلف تاریخوں کی تازہ معلومات کے باعث لگتا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
راولپنڈی کے شہریوں کو ڈینگی کا خطرہ بدستور درپیش ہے، کیونکہ اکتوبر اور نومبر کے آغاز میں بھی کیسز آ رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ معائنے اور کارروائی کہاں مرکوز ہے۔



