ابھی ابھیپاکستان ایگزم بینک اور ڈیجیٹل پورٹلز سے برآمدی فنانسنگ بڑھائے گاامریکا میں وسط مدتی انتخابات کی ووٹنگ، مکمل نتائج میں دن لگ سکتے ہیںسانحہ پمز: ایف آئی آر کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے جواب طلب کر لیا
پاکستان7 ذرائع سے تصدیق شدہ

تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا پارلیمانی پارٹی کی گورنر راج پر مذاکرات کی حمایت

پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا پارلیمانی پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت سے مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق چھ رکنی مذاکراتی کمیٹی بنائی گئی ہے۔

Ambulance during the 2022 Peshawar mosque attack
Ambulance during the 2022 Peshawar mosque attack تصویر: TAG TV / Wikimedia Commons, CC BY 3.0
اہم نکات
  • پارلیمانی پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی پر وفاق سے مذاکرات کی حمایت کی
  • ایکسپریس نیوز کے مطابق چھ رکنی مذاکراتی کمیٹی بنائی گئی
  • بیرسٹر گوہر نے 48 گھنٹوں میں کمیٹی کے باضابطہ اعلان کی یقین دہانی کرائی
6کمیٹی کے ارکان
46 ارکانشرکا (ایکسپریس نیوز)
48 گھنٹےاعلان کی مدت

پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا پارلیمانی پارٹی نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کی راہ ہموار کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ یہ بات جیو نیوز، جنگ اور ایکسپریس نیوز کی رپورٹس میں سامنے آئی۔

جیو نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اجلاس آن لائن ہوا، جبکہ جنگ کے مطابق یہ پشاور میں ہوا۔ اجلاس میں 40 سے زائد ارکان شریک ہوئے جن میں علی امین گنڈاپور بھی شامل تھے۔ ایکسپریس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے شرکا کی تعداد 46 بتائی۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور نورالحق قادری بھی شریک تھے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے مذاکرات کے لیے چھ رکنی کمیٹی بنائی۔ بیرسٹر گوہر، علی امین گنڈاپور اور نورالحق قادری اس کے رکن ہوں گے جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے تین ارکان بھی شامل کیے جائیں گے۔ کمیٹی گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کا مطالبہ کرے گی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق علی امین گنڈاپور نے سوال اٹھایا کہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے بغیر حکومت انہیں کس حیثیت میں تسلیم کرے گی۔ بیرسٹر گوہر نے یقین دہانی کرائی کہ کمیٹی کا باضابطہ اعلان 48 گھنٹوں میں ہو جائے گا۔

بعض ارکان نے تجویز دی کہ وفاقی حکومت سے مذاکراتی عمل میں علی امین گنڈاپور کو شامل کیا جائے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اگر گنڈاپور پارلیمانی پارٹی کا انتخاب ہوں تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے، اور انہوں نے انہیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا پرانا اور وفادار ساتھی قرار دیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کی اکثریت وفاقی حکومت سے مذاکرات کے حق میں ہے۔ نورالحق قادری نے صبر و استقامت پر زور دیتے ہوئے مکالمے کی حمایت کی۔ ارکان نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی ختم ہونے سے پی ٹی آئی کا مینڈیٹ بحال ہو سکے گا۔

شوکت یوسفزئی نے کہا: "وہ مذاکرات کے حامی ہیں، وفاقی حکومت تلخیاں کم کرے اور گورنر راج اور ایمرجنسی ختم کرے"۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاستی اداروں کے خلاف بات کرنے والوں سے پی ٹی آئی کا کوئی تعلق نہیں۔

ارکان نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد کارکنوں کو احتجاج کے لیے نہ نکالنے کے فیصلے کی تائید کی۔ جیو نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ کارکن باہر نکلتے تو 9 مئی جیسے واقعات کا خدشہ تھا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی، ان کی بہنوں اور سہیل آفریدی کی رہائی وفاقی پارلیمانی کمیٹی کی ذمہ داری ہے۔ جیو نیوز کے مطابق اجلاس میں مجوزہ انتخابی اصلاحات کمیٹی پر خصوصی بات نہیں ہوئی۔

یہ کیوں اہم ہے

گورنر راج اور ایمرجنسی خیبر پختونخوا کی منتخب صوبائی حکومت اور صوبے کی سیاست پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مذاکرات سے طے ہوگا کہ پارٹی اور وفاقی حکومت انہیں ہٹانے پر متفق ہو پاتے ہیں یا نہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پی ٹی آئیخیبر پختونخواگورنر راج

اس خبر پر مزید