پی ایس ایکس میں مسلسل تیسرے سیشن تیزی، انڈیکس تقریباً 400 پوائنٹس بڑھ گیا
بدھ کو دوپہر 12:49 بجے کے ایس ای 100 انڈیکس 396.77 پوائنٹس یعنی 0.24 فیصد اضافے سے 164,863.97 پر رہا۔ تیل کی قیمتیں بڑھنے کے باوجود یہ لگاتار تیسرے سیشن میں اضافہ ہے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- دوپہر 12:49 بجے کے ایس ای 100 انڈیکس 164,863.97 پوائنٹس پر، 396.77 پوائنٹس یا 0.24 فیصد اضافہ
- ہفتے کے دوران مسلسل تیسرے سیشن میں تیزی
- سعودی عرب کی ریفائنری پر حملے کے بعد برینٹ خام تیل 2.02 ڈالر یا 1.8 فیصد بڑھ کر 115.90 ڈالر فی بیرل ہوگیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو بھی مثبت رجحان رہا اور ہفتے کے مسلسل تیسرے سیشن میں تیزی دیکھی گئی، کیونکہ خریداری کی دلچسپی نے بینچ مارک انڈیکس کو سہارا دیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق دوپہر 12:49 بجے کے ایس ای 100 انڈیکس 164,863.97 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 396.77 پوائنٹس یعنی 0.24 فیصد زیادہ ہے۔ اخبار نے پچھلا بند بھاؤ 163,038.46 پوائنٹس بتایا، جبکہ منٹ مرر نے 164,467.20 پوائنٹس لکھا ہے، یعنی اس عدد پر رپورٹس میں فرق ہے۔
مارکیٹ کا آغاز مستحکم رہا اور ابتدائی چند منٹ میں انڈیکس 164,830.55 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جو 363.35 پوائنٹس یعنی 0.22 فیصد اضافہ تھا۔ بعد میں اضافہ بڑھا، تاہم سیشن کی ابتدائی بلند سطح سے کچھ نیچے بھی آیا۔
رپورٹس میں دی گئی ابتدائی مارکیٹ تفصیلات کے مطابق انڈیکس 164,368.47 پوائنٹس کی بلند اور 163,545.69 پوائنٹس کی کم سطح کے درمیان رہا۔
علاقائی منڈیوں نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا دیا۔ بدھ کو ایشیائی حصص میں اضافہ ہوا کیونکہ مصنوعی ذہانت سے متعلق نئی دلچسپی نے بڑی امریکی کمپنیوں کے نتائج سے پہلے خریداری بڑھائی۔
دوسری جانب سعودی عرب، جو دنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، میں ایک ریفائنری پر حملے کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھیں اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات پھر ابھرے۔ 0735 جی ایم ٹی تک برینٹ خام تیل کے فیوچرز 2.02 ڈالر یا 1.8 فیصد اضافے سے 115.90 ڈالر فی بیرل اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 2.01 ڈالر یا 2 فیصد اضافے سے 101.91 ڈالر پر تھا۔
رپورٹس کے مطابق تیل کی بلند قیمتیں پاکستان کے لیے اہم بیرونی خدشہ ہیں کیونکہ ملک بڑی حد تک درآمدی توانائی پر انحصار کرتا ہے۔ مسلسل اضافہ درآمدی بل بڑھا سکتا ہے اور مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کر سکتا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
پی ایس ایکس کی روزانہ حرکت سے پاکستانی بچت کاروں اور پنشن فنڈز کے حصص کی کارکردگی کا اندازہ ہوتا ہے، جبکہ تیل کی بلند قیمتیں ملک کے درآمدی بل اور مہنگائی پر اثر ڈالتی ہیں۔



