ابھی ابھی
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

پی سی آر ڈبلیو آر کے ٹیسٹ میں بوتل بند پانی کے 27 برانڈ غیر محفوظ قرار

پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز نے 27 بوتل بند اور منرل واٹر برانڈز کو انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دیا ہے۔ جولائی تا ستمبر 2026 میں 20 شہروں سے 223 نمونے جانچے گئے۔

پی سی آر ڈبلیو آر کے ٹیسٹ میں بوتل بند پانی کے 27 برانڈ غیر محفوظ قرار
تصویر: congerdesign / Pixabay
اہم نکات
  • بوتل بند اور منرل واٹر کے 27 برانڈ غیر محفوظ قرار
  • 20 شہروں سے 223 نمونوں کی جانچ
  • 195 برانڈ، یعنی تقریباً 87 فیصد، معیار پر پورے اترے
  • 22 برانڈز میں جراثیمی آلودگی ملی
27غیر محفوظ قرار دیے گئے برانڈز
223جانچے گئے نمونے
20شہر
195 (تقریباً 87 فیصد)معیار پر پورے اترنے والے برانڈز

پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) نے بازار میں دستیاب 27 بوتل بند اور منرل واٹر برانڈز کو جراثیمی اور کیمیائی آلودگی کی وجہ سے انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دیا ہے۔ دی نیشن کے مطابق یہ نتائج 2026 کی تیسری سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر، کے ہیں۔

ڈیلی پاکستان کے مطابق کونسل نے 20 شہروں سے جمع کیے گئے بوتل بند پینے کے پانی کے 223 نمونوں کا جائزہ لیا۔ ان میں سے 195 برانڈز، یعنی جانچے گئے برانڈز کا تقریباً 87 فیصد، مقررہ حفاظتی معیار پر پورے اترے۔

27 برانڈز کیمیائی ٹیسٹ، جراثیمی ٹیسٹ یا دونوں میں ناکام رہے۔ چھ برانڈز کیمیائی معیار پر پورے نہ اترے اور 22 میں جراثیمی آلودگی پائی گئی۔ ایک برانڈ دونوں زمروں میں ناکام رہا۔

ڈیلی پاکستان کے مطابق کسی نمونے میں ای کولائی کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم کئی مصنوعات میں کولی فارم بیکٹیریا ملے۔ بعض مصنوعات میں آرسینک، سوڈیم، پوٹاشیم اور مجموعی تحلیل شدہ ٹھوس مادے مقررہ حد سے زیادہ تھے۔

مثال کے طور پر گوجرانوالہ میں ایم کے ایس بیوریجز سے منسلک اکوافائن بوتل بند پینے کے پانی میں آرسینک 23.2 پی پی بی ملا، جبکہ زیادہ سے زیادہ حد 10 پی پی بی ہے۔ ملتان کے پریمیم صافی پیوریفائیڈ واٹر میں آرسینک 13.5 پی پی بی تھا، جو مقررہ حد سے زیادہ ہے۔ فریش اسمارٹ پیور واٹر میں پوٹاشیم 20 پی پی ایم ریکارڈ ہوا، جبکہ معیار 10 پی پی ایم ہے۔

ڈیلی پاکستان نے لکھا کہ بعض ثانوی ذرائع ڈورو اور اکوا گرین بوتل بند پینے کے پانی کو بھی جراثیمی آلودگی سے جوڑتے ہیں۔ اس کے مطابق نیسلے پیور لائف، اکوافینا، ڈاسانی، مری اسپارکلٹس اور کلیگن مبینہ طور پر اس دور میں مقررہ معیار پر پورے اترے۔

نمونے اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، ساہیوال، ٹنڈو جام، بدین، ڈیرہ اسماعیل خان، بہاولپور، میانوالی، مظفرآباد، گلگت اور سکھر سے لیے گئے۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان میں بہت سے لوگ نل کے پانی کے متبادل کے طور پر بوتل بند پانی خریدتے ہیں، اس لیے برانڈز کے بارے میں ٹیسٹ نتائج گھرانوں کے انتخاب سے براہ راست جڑے ہیں۔ نمونے تمام صوبوں کے ساتھ آزاد کشمیر اور گلگت سے بھی لیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق بنیادی مسائل مقررہ حد سے زیادہ آرسینک اور جراثیمی آلودگی ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پی سی آر ڈبلیو آربوتل بند پانیخوراک کا تحفظ

اس خبر پر مزید