ابھی ابھیحکومت کا پیٹرولیم لیوی ختم کرنے سے انکار، بعض شعبوں کو ایندھن میں رعایتامریکی وسط مدتی انتخابات 2026: کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ووٹروں کے ہاتھ میںپیٹرولیم قیمتوں میں مزید ریلیف کا عندیہ، ایل پی جی مارکیٹ مسابقت کے لیے کھلے گی
صحت2 ذرائع سے تصدیق شدہ

ملک میں فلو ویکسین کی قلت، لاہور سے جعلی ویکسین برآمد

پاکستان میں موسمی فلو کی اصل ویکسین کی قلت ہے اور لاہور میں ڈرگ انسپکٹرز نے مشتبہ جعلی ویکسین کا بڑا ذخیرہ پکڑ لیا۔ اس سلسلے میں دو افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔

Photo: vaccination, syringe, desktop backgrounds, mask
Photo: vaccination, syringe, desktop backgrounds, mask تصویر: ronstik / Pixabay

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، طبی مشورہ نہیں۔ اپنی صحت کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

اہم نکات
  • ڈرگ کنٹرول حکام کے مطابق بڑی بین الاقوامی اور چینی کمپنیوں کی اصل فلو ویکسین بازار میں دستیاب نہیں۔
  • لاہور میں ڈرگ انسپکٹرز نے مشتبہ جعلی ویکسین ضبط کی اور دو افراد گرفتار ہوئے۔
  • حکام نے عوام سے صرف لائسنس یافتہ فارمیسیوں سے خریداری کی اپیل کی۔
2لاہور میں گرفتار افراد
نومبر کے آخر یا دسمبرسنوفی کی ممکنہ محدود فراہمی

ڈرگ کنٹرول حکام نے بدھ کو بتایا کہ پاکستان میں موسمی انفلوئنزا کی اصل ویکسین کی قلت ہے اور بڑی بین الاقوامی اور چینی کمپنیوں کی سپلائی ختم ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اس کمی سے مارکیٹ میں مشتبہ جعلی مصنوعات کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

لاہور میں ڈرگ انسپکٹرز نے چھاپے مار کر مشتبہ جعلی فلو ویکسین کا بڑا ذخیرہ قبضے میں لے لیا اور دو افراد کو گرفتار کر لیا۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق ان کے خلاف جعلی طبی مصنوعات تقسیم کرنے پر فوجداری مقدمات درج کیے گئے ہیں، جبکہ ویکسین کی کھیپ غیر قانونی ترسیلی ذرائع سے پکڑی گئی۔

آفس آف دی چیف ڈرگ کنٹرولر پنجاب کے ایک اہلکار نے کہا کہ تمام بڑے سپلائرز کی ویکسین اس وقت بازار میں دستیاب نہیں۔ پرو پاکستانی کے مطابق ایبٹ اور سنوفی کی انفلوئنزا ویکسین بھی متاثرہ مصنوعات میں شامل ہیں۔ اہلکار کے مطابق ایبٹ شاید اس سال پاکستان کو اپنی فلو ویکسین بالکل فراہم نہ کرے، جبکہ سنوفی نومبر کے آخر یا دسمبر میں محدود مقدار بھیج سکتی ہے۔

چینی کمپنیوں سائنوویک اور شینزین انووکس نے محدود مقدار فراہم کی تھی اور ان کا اسٹاک ختم ہو چکا ہے۔ اہلکار کے مطابق لاہور میں پکڑی گئی ویکسین انفلووک کی جعلی شکل لگتی ہے، جو ایبٹ سے منسوب فلو ویکسین ہے۔

ڈیلی ٹائمز کے مطابق قلت نے ملک بھر میں سرکاری اور نجی شعبۂ صحت کو متاثر کیا ہے۔ ضبط شدہ نمونوں کی ساخت جانچنے کے لیے فرانزک لیبارٹریوں میں کیمیائی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

پنجاب کے ڈرگ کنٹرول اہلکار نے عوام سے کہا کہ فلو ویکسین صرف لائسنس یافتہ فارمیسیوں سے خریدیں۔ خریداروں کو مشورہ دیا گیا کہ پروڈکٹ کا بیچ نمبر اور کمپنی کی مہر دیکھیں اور یقینی بنائیں کہ فروخت کنندہ مطلوبہ کولڈ چین برقرار رکھتا ہے۔

ڈیلی ٹائمز کے مطابق ریگولیٹری محکمے خوردہ فارمیسیوں کی نگرانی اور منافع خوری روکنے کے لیے معائنہ ٹیمیں تعینات کر رہے ہیں، جبکہ مشکوک ادویات کی شکایات کے لیے صارف ہیلپ لائنز قائم کی جا رہی ہیں۔ وزارت صحت کے حکام ترجیحی کھیپیں جلد منگوانے کے لیے بین الاقوامی سپلائرز سے رابطے میں ہیں۔

طبی تنظیموں نے وفاقی ریگولیٹری اداروں سے ضروری ادویات کی درآمد کے طریقہ کار کو آسان بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خبردار کیا کہ جعلی طبی سامان بنانے یا بیچنے والوں کو قانونی سزا اور مقدمے کا سامنا ہوگا۔

یہ کیوں اہم ہے

اس سیزن میں پاکستان کے مریضوں اور خاندانوں کے پاس اصل فلو ویکسین کے کم اختیارات ہیں اور بازار میں جعلی ڈوز گردش کر رہی ہیں۔ حکام کے مطابق ان سے بچنے کے لیے صرف لائسنس یافتہ فارمیسیوں سے خریداری کی جائے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

فلو ویکسینلاہورڈرگ کنٹرول

اس خبر پر مزید