سعودی عرب پر حملوں کے خدشات کے باوجود تیل کی قیمتیں چھ ماہ کی بلند سطح سے نیچے آگئیں
پیر کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی، جبکہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں یہ تقریباً چھ ماہ کی بلند سطح کے قریب پہنچ گئی تھیں۔ برینٹ 114 سے 115 ڈالر فی بیرل کے درمیان ٹریڈ کرتا رہا۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- پیر کو برینٹ خام تیل وقت اور ادارے کے مطابق 1.3 سے 2.3 فیصد سستا ہو کر تقریباً 114 سے 115 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
- امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 101 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا۔
- ایران سے متعلق کشیدگی کم ہونے کی امیدوں سے قیمتوں پر دباؤ آیا، تاہم سعودی عرب پر حملوں کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے۔
عالمی منڈی میں پیر 26 اکتوبر 2026 کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی، جبکہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں یہ تقریباً چھ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی تھیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق سعودی عرب پر جاری حملوں کی وجہ سے رسد کے خدشات برقرار رہے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق جی ایم ٹی 0018 تک امریکی خام تیل کے فیوچرز 1.60 ڈالر یعنی 1.55 فیصد کمی سے 101.67 ڈالر فی بیرل پر تھے۔ برینٹ فیوچرز 1.56 ڈالر یعنی 1.34 فیصد کمی سے 115.16 ڈالر پر آگئے۔ بعد میں اسی ادارے نے بتایا کہ برینٹ 1.6 فیصد کمی سے 114.88 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق برینٹ 2.21 ڈالر کمی سے 114.51 ڈالر اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 2.23 ڈالر کمی سے 101.04 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ ایکسپریس نیوز نے گلف نیوز کے حوالے سے بتایا کہ صبح 10 بج کر 20 منٹ تک برینٹ 2.29 فیصد یعنی 2.68 ڈالر کمی سے 114.04 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 2.49 فیصد یعنی 2.58 ڈالر کمی سے 100.69 ڈالر پر تھا۔ اعداد و شمار میں معمولی فرق اس لیے ہے کہ یہ مختلف اوقات کے ہیں۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق جمعے کو سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں سے توانائی کی رسد کے خدشات بڑھے اور قیمتیں تقریباً 3 ڈالر اضافے پر بند ہوئیں۔ برینٹ ہفتے کے دوران 6 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی 2.3 فیصد بڑھا۔ ادارے کے مطابق برینٹ فیوچرز گزشتہ ہفتے 6.2 فیصد اوپر گئے اور 2022 کے وسط کے بعد سب سے بلند ہفتہ وار کلوزنگ پر پہنچے۔
بزنس ریکارڈر نے پیر کی کمی کو ان اطلاعات سے جوڑا کہ قطری ثالث اتوار کو تہران میں تھے، جو امریکا کے ساتھ ہم آہنگی میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم ہونے کی امیدوں نے قیمتوں پر دباؤ ڈالا، تاہم سعودی تنصیبات پر حملوں کے خدشات سے سرمایہ کار محتاط رہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق رواں سال رسد میں ممکنہ کمی کے خدشات کے باعث برینٹ کی قیمت تقریباً 90 فیصد بڑھ چکی ہے۔ جمعے کو قیمتوں میں اضافے کے دوران ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی تھیں کہ امریکا اور اسرائیل نومبر کے آغاز میں امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملوں کی تیاری کر سکتے ہیں۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق حالیہ کمی کی ایک وجہ یہ ہے کہ تیل ضرورت سے زیادہ خریدا جا چکا تھا اور سرمایہ کاروں نے منافع کے لیے فروخت کی۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی اور خطے میں کشیدگی کے باعث قیمتوں میں دوبارہ اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں بھی محتاط رہیں، کیونکہ آئندہ ہفتے مرکزی بینکوں کے اجلاس اور کمپنیوں کے نتائج آنے ہیں جو اے آئی کے رجحان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو پرکھیں گے۔
یہ کیوں اہم ہے
عالمی خام تیل کی قیمتیں پاکستان میں پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں اور قومی درآمدی بل پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔



