پشاور میں نادرا کے افسر کو دفتر کے باہر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا
جمعہ کی صبح پشاور کے علاقے حیات آباد میں نادرا کے ریجنل دفتر کے باہر ایک سینئر افسر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ پولیس حملہ آوروں کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے۔

- نادرا کے افسر فہد کو جمعہ کو حیات آباد، پشاور میں نادرا ریجن آفس کے باہر قتل کر دیا گیا۔
- پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ رہی ہے، جس میں پشاور سیف سٹی منصوبے کی ریکارڈنگ بھی شامل ہے۔
- تفتیش کار ذاتی دشمنی کے امکان کی بھی چھان بین کر رہے ہیں۔
نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ایک سینئر افسر کو جمعہ کی صبح پشاور میں ان کے دفتر کے باہر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ ایکسپریس ٹریبیون نے اسے بظاہر ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے۔
واقعہ حیات آباد میں نادرا ریجن آفس کے سامنے پیش آیا۔ اخبار کے مطابق ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فہد سڑک کے پار گاڑی کھڑی کر کے دفتر کی عمارت کی طرف جا رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر دی۔ نوائے وقت نے ان کا نام فہد خان بتایا اور لکھا کہ فائرنگ دفتر کے عقب میں ہوئی۔
پولیس کے مطابق نادرا کا افسر موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا اور حملہ آور بغیر کسی رکاوٹ کے فرار ہو گئے۔ واقعہ سی سی ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہو گیا، جس کی فوٹیج سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیل گئی۔
پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے شواہد جمع کرنے کے لیے جگہ کو گھیرے میں لے لیا۔ شہر بھر میں ناکے لگائے گئے اور سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔
تفتیش کار آس پاس کی عمارتوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج جمع کر رہے ہیں اور قاتلوں کی شناخت کے لیے پشاور سیف سٹی منصوبے کی ریکارڈنگ بھی دیکھ رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس کو حملہ آوروں کی تصاویر ملی ہیں جو شناخت کے لیے نادرا کو بھیج دی گئیں۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق تفتیش کار ذاتی دشمنی کے امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
حکام کے مطابق مقتول افسر رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کے بھتیجے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عموماً محافظوں کے ساتھ بلٹ پروف گاڑی میں دفتر آتے تھے، تاہم جمعہ کو وہ اکیلے اور اپنی گاڑی میں آئے تھے۔
نادرا مشرف دور میں شہریوں کا جامع ڈیٹابیس بنانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ گزشتہ دو برس میں اس نے حکومتی مہم کے تحت غیر ملکیوں، خصوصاً افغان پناہ گزینوں کو جاری کیے گئے ہزاروں شناختی کارڈ منسوخ کیے ہیں۔
پس منظر
خبر.پی کے نے 5 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ پشاور میں پجاگی روڈ کے قریب گیس سلنڈر پھٹنے سے ایک مکان کی چھت گرنے پر تین بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔
یہ کیوں اہم ہے
نادرا کے دفاتر شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کرتے ہیں جن پر لاکھوں پاکستانی انحصار کرتے ہیں، اس لیے عملے پر حملوں سے ان خدمات کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔ یہ واقعہ پشاور کے ایک علاقائی دفتر میں پیش آیا جہاں شہری ان خدمات سے رجوع کرتے ہیں۔ پولیس نے ابھی تک حملہ آوروں کے نام یا محرک کا اعلان نہیں کیا۔



