ابھی ابھیحکومت کا پیٹرولیم لیوی ختم کرنے سے انکار، بعض شعبوں کو ایندھن میں رعایتامریکی وسط مدتی انتخابات 2026: کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ووٹروں کے ہاتھ میںپیٹرولیم قیمتوں میں مزید ریلیف کا عندیہ، ایل پی جی مارکیٹ مسابقت کے لیے کھلے گی
کاروبار2 ذرائع سے تصدیق شدہ

ایل پی جی مارکیٹرز نے حکومت کا مجوزہ قیمتوں کا نیا فارمولہ مسترد کر دیا

پاکستان ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی نئی ایل پی جی پالیسی اور قیمتوں کا فارمولہ مسترد کر دیا ہے۔ کابینہ کو بھیجی گئی تجویز میں قیمتوں کو درآمدی لاگت پر مبنی مارکیٹ ماڈل پر لانے کی بات کی گئی ہے۔

Flatbed rigid truck:Truck carrying gas bottles on the road
Flatbed rigid truck:Truck carrying gas bottles on the road تصویر: Filo gèn' / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • پاکستان ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن نے مجوزہ پالیسی اور قیمتوں کے فارمولے کو چیلنج کیا ہے۔
  • تجویز کے تحت یکم نومبر 2026 سے اوگرا کے ماہانہ قیمتوں کے نوٹیفکیشن ختم ہوں گے اور قیمتیں درآمدی لاگت سے جڑیں گی۔
  • بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام یا غربت کے معیار پر پورا اترنے والے کمزور گھرانوں کو فنڈ سے ہدفی سبسڈی ملے گی۔
35 ہزار روپے فی میٹرک ٹنموجودہ مقررہ مارجن
158 روپے فی کلومارچ میں مارکیٹ اور سرکاری قیمت کا زیادہ سے زیادہ فرق
یکم نومبر 2026اوگرا نوٹیفکیشن ختم کرنے کی مجوزہ تاریخ

نوائے وقت کے مطابق پاکستان ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی نئی ایل پی جی پالیسی اور قیمتوں کا فارمولہ مسترد کر دیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ نجی شعبے کو نظر انداز کرنے اور سرکاری اداروں کا کردار بڑھانے سے نااہلی، کرپشن اور صارفین کے لیے مزید مہنگائی پیدا ہوگی۔

پرو پاکستانی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ایل پی جی کی قیمتوں کو حکومتی کنٹرول سے نکال کر ایسے مارکیٹ ماڈل پر لانے کی تیاری کر رہا ہے جس میں درآمدی لاگت قیمت طے کرے گی۔ مجوزہ تبدیلیاں حتمی منظوری کے لیے کابینہ کو بھیج دی گئی ہیں۔

تجویز کے مطابق اوگرا یکم نومبر 2026 سے مقامی اور درآمدی ایل پی جی کے ماہانہ قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری نہیں کرے گا۔ بڑے پیمانے پر درآمد سرکاری کمپنیاں کریں گی اور ماہانہ بنیادی قیمتیں بھی طے کریں گی۔ ان میں پاکستان اسٹیٹ آئل، ایس ایس جی سی ایل پی جی لمیٹڈ، پارکو پرل گیس لمیٹڈ اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ شامل ہیں۔

ان کی قیمتیں اوگرا کی مقررہ زیادہ سے زیادہ قیمت کے بجائے اصل درآمدی لاگت سے جڑی ہوں گی۔ فارمولے میں سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس، درآمدی پریمیم، فریٹ، انشورنس، ضمنی اخراجات اور گزشتہ ماہ پی ایس او یا ایس ایل ایل کے ادا کردہ درآمدی ٹیکس شامل ہوں گے۔

موجودہ نظام میں اوگرا سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس پر ایف او بی بنیاد اور 35 ہزار روپے فی میٹرک ٹن کے مقررہ مارجن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ قیمت طے کرتا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ یہ فارمولہ پریمیم، شپنگ، انشورنس، پورٹ ہینڈلنگ اور ٹرمینل فیس جیسے اضافی اخراجات کو شامل نہیں کرتا۔ یہ مارجن 2018 سے تبدیل نہیں ہوا، جب کہ ڈیزل کی قیمت تقریباً 205 فیصد بڑھی اور روپے کی قدر تقریباً 155 فیصد گری۔

رپورٹ کے مطابق جنوری سے جولائی 2026 کے دوران فلنگ پلانٹس پر ایل پی جی کی اوسط قیمت سرکاری قیمت سے 60 سے 79 روپے فی کلو زیادہ رہی۔ مارچ میں یہ فرق 158 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح پر پہنچا، اور مارکیٹ قیمتیں مقررہ حد سے 11 سے 70 فیصد زیادہ تھیں۔

تجویز میں پبلک اکاؤنٹ میں پروڈیوسر پرائس ڈیفرینشل فنڈ قائم کرنے کا کہا گیا ہے، جو درآمدی برابری کی بنیادی قیمت اور سعودی آرامکو سے جڑی پیداواری قیمت کا فرق جمع کرے گا۔ اس فنڈ کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کریں گے۔ فنڈ کی رقم صرف کمزور صارفین کو ہدفی سبسڈی دینے کے لیے استعمال ہوگی، جن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے معیار یا حکومت کے منظور شدہ غربت کے معیار پر پورا اترنے والے گھرانے شامل ہیں۔

پیٹرولیم ڈویژن وزارت خزانہ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مشاورت سے ایک ماہ میں عملی رہنما اصول بنائے گا، اور سبسڈی کا سالانہ جائزہ لیا جائے گا۔ کمپنیاں اپنے مارکیٹنگ مارجن اور فریٹ خود طے کریں گی، جبکہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان اور اوگرا ملی بھگت روکیں گے۔ پیٹرولیم لیوی، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس بدستور وصول کیے جائیں گے۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ فارمولہ طے کرتا ہے کہ پاکستان میں گھرانے ایل پی جی سلنڈر کے لیے کتنی رقم ادا کریں گے، اس لیے تبدیلی گھریلو بجٹ پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ مجوزہ نظام میں کمزور گھرانوں کو ہدفی سبسڈی مل سکتی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایل پی جیاوگراتوانائی کی قیمتیں

اس خبر پر مزید