سود میں اضافے کے باوجود کے ایس ای 100 میں 1,429 پوائنٹس کا اضافہ
منگل کو کے ایس ای 100 انڈیکس 1,428.73 پوائنٹس یعنی 0.88 فیصد بڑھ کر 164,467.20 پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے اسٹیٹ بینک کے 50 بیسس پوائنٹس اضافے کو نظرانداز کیا اور تیل کی قیمتوں میں نرمی کا اثر رہا۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- کے ایس ای 100 انڈیکس 1,428.73 پوائنٹس یعنی 0.88 فیصد اضافے سے 164,467.20 پر بند ہوا
- اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کر دیا
- کاروباری حجم 401.9 ملین شیئرز اور مالیت 18 ارب روپے رہی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو تیزی کا سلسلہ جاری رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس پورے سیشن میں مثبت رہا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انڈیکس 1,428.73 پوائنٹس یعنی 0.88 فیصد بڑھ کر 164,467.20 پر بند ہوا۔ ٹیک جوس کے مطابق گزشتہ بندش 163,038.47 تھی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سیشن کے دوران انڈیکس کی بلند ترین سطح 164,787.67 اور کم ترین 163,545.70 رہی۔ سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں خریداری دیکھی گئی۔ ایم سی بی بینک، فوجی فرٹیلائزر، یو بی ایل، پاکستان پیٹرولیم اور این بی پی نمایاں حصہ ڈالنے والوں میں شامل تھے۔
یہ اضافہ اس کے باوجود ہوا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کر دیا، جو منگل سے نافذ ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اضافے سے قرض کی لاگت پر خدشات پیدا ہوئے، تاہم بڑے شعبوں میں خریداری نے مثبت رجحان برقرار رکھا۔
تیل کی قیمتوں کا بھی کردار رہا۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے اور امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ کے حل کی طرف پیش رفت کی امیدوں پر عالمی قیمتیں گریں۔ منٹ مرر کے مطابق برینٹ خام تیل کے فیوچرز 0.86 فیصد کمی سے 114.81 ڈالر فی بیرل اور امریکی ڈبلیو ٹی آئی 100.88 ڈالر پر آ گئے۔ ٹریبیون کے مطابق سعودی عرب اور بحری جہازوں پر مسلسل حملوں سے سرمایہ کار محتاط رہے اور قیمتیں چھ ماہ کی بلند سطح کے قریب رہیں۔
کاروباری حجم گزشتہ روز کے 376 ملین شیئرز سے بڑھ کر 401.9 ملین شیئرز رہا اور تجارت کی مالیت 18 ارب روپے رہی۔ ریڈی مارکیٹ میں 497 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 282 کے بھاؤ بڑھے، 170 کے گھٹے اور 45 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ کے الیکٹرک 54 ملین شیئرز کے ساتھ حجم میں سرفہرست رہی، اس کا شیئر 0.15 روپے بڑھ کر 5.80 روپے پر بند ہوا۔
کاسب کے ٹریڈ کے احمد شیراز کے مطابق سیشن میں کمرشل بینکوں، سیمنٹ، کھاد اور آٹو شعبوں میں خریداری رہی۔ انہوں نے کہا کہ برینٹ خام تیل 115 سے 116 ڈالر فی بیرل کے آس پاس ہے جس سے درآمدی مہنگائی کے خدشات بڑھ رہے ہیں، جبکہ ملک میں بلند مہنگائی اور پالیسی ریٹ میں اضافہ سرمایہ کاروں کے رجحان پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
شیراز نے کہا کہ مارکیٹ میں ملا جلا اور محتاط رجحان رہنے کی توقع ہے، اور کمپنیوں کے نتائج، تیل کی قیمتیں، جغرافیائی سیاسی پیش رفت اور معاشی اشاریے سمت کا تعین کریں گے۔ ان کے مطابق اتار چڑھاؤ بلند رہ سکتا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے مشرقِ وسطیٰ، اسرائیلی انتخابات اور آئندہ امریکی وسط مدتی انتخابات کی غیر یقینی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔
یہ کیوں اہم ہے
حصص کی قیمتیں پاکستان میں سرمایہ کاروں اور بچت کرنے والوں پر اثر ڈالتی ہیں، جبکہ پالیسی ریٹ میں اضافے سے کاروبار اور گھرانوں کے لیے قرض مہنگا ہوتا ہے۔ تیل کی قیمتیں درآمدی مہنگائی پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔


