کے ایس ای 100 انڈیکس بدھ کو 1,269 پوائنٹس بڑھ کر 165,736.76 پر بند
بدھ کو کے ایس ای 100 انڈیکس 1,269.55 پوائنٹس یعنی 0.77 فیصد بڑھ کر 165,736.76 پر بند ہوا۔ مسلسل تیزی کا یہ دوسرا یا تیسرا سیشن تھا، رپورٹس میں فرق ہے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- بدھ کو انڈیکس 165,736.76 پر بند ہوا، 1,269.55 پوائنٹس یا 0.77 فیصد اضافہ
- گزشتہ سیشن میں انڈیکس 164,467.20 پر بند ہوا تھا
- بینکوں، کھاد، آٹو موبائل اور پاور شعبوں میں خریداری رہی
- نیشنل کلیئرنگ کمپنی کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 624 ملین روپے کے شیئر فروخت کیے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس بدھ کو 1,269.55 پوائنٹس یعنی 0.77 فیصد بڑھ کر 165,736.76 پوائنٹس پر بند ہوا۔ گزشتہ سیشن میں انڈیکس 164,467.20 پر بند ہوا تھا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مارکیٹ کھلنے کے چند منٹ میں انڈیکس 164,830.55 تک پہنچ گیا، جو 363.35 پوائنٹس کا اضافہ تھا۔ دن کی بلند ترین سطح 166,100.34 اور کم ترین 164,355.83 رہی۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق بلند ترین سطح کم ترین سے 1,633 پوائنٹس اوپر تھی جبکہ کمی 111 پوائنٹس تک محدود رہی۔
ٹیک جوس کے مطابق ابتدا میں فروخت کا دباؤ رہا مگر دوپہر کے بعد مارکیٹ سنبھل گئی۔ ایکسپریس ٹریبیون نے لکھا کہ سیشن کے آخر میں خریداری میں تیزی آئی، جسے مصنوعی ذہانت کی طلب سے متعلق امیدوں اور امریکی کمپنیوں کے نتائج سے پہلے ایشیائی منڈیوں میں اضافے کا سہارا ملا۔
خریداری میں کمرشل بینک، کھاد، آٹو موبائل اور پاور شعبے آگے رہے۔ فوجی فرٹیلائزر نے 18.5 روپے فی شیئر ڈیویڈنڈ کے اعلان کے بعد تیزی کی قیادت کی۔ نیشنل بینک کے توقع سے بہتر نتائج سے بینکنگ شعبے میں خریداری ہوئی، جبکہ حبکو نے 5 روپے فی شیئر ادائیگی سے انڈیکس کو سہارا دیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق کے اے ایس بی کے ٹریڈ کے حوالے سے تقریباً 18 کروڑ 30 لاکھ شیئرز کا لین دین ہوا، جبکہ مجموعی حجم 57 کروڑ 80 لاکھ شیئرز رہا جو منگل کو 40 کروڑ 20 لاکھ تھا۔ کاروبار کی مالیت 26 ارب روپے رہی۔ ریڈی مارکیٹ میں 496 کمپنیوں کے شیئرز میں سودے ہوئے، 269 میں اضافہ، 180 میں کمی اور 47 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ نیشنل کلیئرنگ کمپنی کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 624 ملین روپے کے شیئر فروخت کیے۔
ٹیک جوس کے مطابق منگل کو انڈیکس 1,428.73 پوائنٹس یا 0.88 فیصد بڑھ کر 164,467.20 پر بند ہوا تھا۔ جے ایس گلوبل نے بدھ کو مسلسل تیسرا تیزی کا سیشن قرار دیا، جبکہ ٹیک جوس نے اسے مسلسل دوسرا اضافہ لکھا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کیا، جو توقعات سے کم اضافہ تھا۔
تیل کی قیمتیں تشویش کا باعث رہیں۔ ٹیک جوس کے مطابق حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری پر میزائل حملے کے دعوے کے بعد برینٹ خام تیل 1.36 ڈالر یا 1.2 فیصد بڑھ کر 115.24 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی 1.62 ڈالر یا 1.6 فیصد بڑھ کر 101.52 ڈالر ہوگیا۔
کے اے ایس بی ٹریڈ کے ایکویٹی ٹریڈر احمد شیراز نے کہا: "However, Brent crude hovering around $115 per barrel remains a key concern, alongside geopolitical uncertainty involving Iran, Israel and the US"۔ جے ایس گلوبل کے تجزیہ کار نواز علی نے کہا: "Looking ahead, any positive developments regarding the US-Iran situation that lead to a decline in crude oil prices could further improve investor confidence"۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستانی سرمایہ کار، پنشن فنڈز اور بچت کرنے والے اسٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آج کے کاروبار پر کمپنیوں کے منافع، اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ اور تیل کی قیمتوں کا اثر رہا۔


