کے ایس ای 100 انڈیکس 1,456 پوائنٹس بڑھ کر 167,193.44 پر بند
جمعرات کو کے ایس ای 100 انڈیکس 1,456.68 پوائنٹس یعنی 0.88 فیصد اضافے سے 167,193.44 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ٹریڈنگ حجم اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں بھی اضافہ ہوا۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- جمعرات کو انڈیکس 1,456.68 پوائنٹس (0.88 فیصد) بڑھ کر 167,193.44 پر بند ہوا
- ریڈی مارکیٹ میں حجم 81 کروڑ 68 لاکھ 34 ہزار شیئرز رہا، پچھلے روز 57 کروڑ 81 لاکھ 24 ہزار تھا
- مارکیٹ کیپٹلائزیشن 18.329 کھرب سے بڑھ کر 18.492 کھرب روپے ہو گئی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جمعرات کو 1,456.68 پوائنٹس یعنی 0.88 فیصد اضافے کے بعد 167,193.44 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اے پی پی اور ڈیلی ٹائمز کے مطابق گزشتہ سیشن میں انڈیکس 165,736.76 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
ڈیلی پاکستان کے مطابق اضافے کے بعد انڈیکس نے اہم نفسیاتی سطحیں دوبارہ حاصل کر لیں۔ اخبار نے اسے کاروباری ہفتے کا چوتھا دن قرار دیا۔
ڈیلی ٹائمز کے مطابق ریڈی مارکیٹ میں 816.834 ملین شیئرز کا لین دین ہوا، جبکہ پچھلے سیشن میں یہ 578.124 ملین تھا۔ لین دین کی مالیت 26.203 ارب روپے سے بڑھ کر 31.541 ارب روپے ہو گئی۔
مارکیٹ کیپٹلائزیشن گزشتہ روز کے 18.329 کھرب روپے سے بڑھ کر 18.492 کھرب روپے ہو گئی۔ ریڈی مارکیٹ میں ٹریڈ ہونے والی 499 کمپنیوں میں سے 232 کے شیئرز کی قیمتیں بڑھیں، 232 کی کم ہوئیں اور 35 کی قیمتیں برقرار رہیں۔
حجم کے لحاظ سے سنرجیکو پی کے سرفہرست رہی جس کے 184.011 ملین شیئرز کا لین دین ہوا۔ پرویز احمد کو کے 81.146 ملین اور کے الیکٹرک کے 46.827 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے۔
انفرادی شیئرز میں پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ 398.50 روپے بڑھ کر 13,950.00 روپے پر بند ہوئی۔ یونی لیور پاکستان فوڈز 150.98 روپے اضافے سے 25,851.20 روپے پر رہی۔ خیرپور شوگر ملز 113.39 روپے کمی سے 1,020.47 روپے اور جے کے اسپننگ ملز 44.55 روپے کمی سے 427.55 روپے پر بند ہوئی۔
فیوچرز (ڈی ایف سی) مارکیٹ میں 520.614 ملین شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت 23.050 ارب روپے رہی، جبکہ پچھلے سیشن میں 422.813 ملین شیئرز 17.391 ارب روپے کے تھے۔ اس مارکیٹ میں ٹریڈ ہونے والی 313 کمپنیوں میں سے 167 کے شیئرز بڑھے، 138 کے کم ہوئے اور 8 کی قیمتیں برقرار رہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستانی سرمایہ کاروں، پنشن فنڈز اور میوچل فنڈز کے شیئرز انڈیکس کے ساتھ اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتے ہیں، اس لیے دن بھر کا اضافہ ان کی ہولڈنگز کی قدر پر اثر ڈالتا ہے۔



