حکومت کا ایل پی جی اصلاحات کا اعلان: نیلامی، کھلی درآمد، کوٹہ سسٹم کا خاتمہ
حکومت کا کہنا ہے کہ صوابدیدی کوٹہ سسٹم ختم کر کے اور درآمد کو مسابقت کے لیے کھول کر ایل پی جی کے شعبے میں اجارہ داری ختم کی جائے گی۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے منگل کو اسلام آباد میں اس منصوبے کا اعلان کیا۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- مقامی طور پر تیار ہونے والی ایل پی جی پانچ اور 10 ٹن کی مقدار میں شفاف نیلامی کے ذریعے فروخت ہوگی۔
- صوابدیدی کوٹہ سسٹم ختم ہوگا اور ایل پی جی کی درآمد مسابقت کے لیے کھولی جائے گی۔
- ایل پی جی پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ قائم ہوگا اور مستحق خاندانوں کو بی آئی ایس پی ڈیٹا بیس کے ذریعے ریلیف ملے گا۔
وفاقی حکومت نے منگل کو صارفین کو سستی ایل پی جی فراہم کرنے، گیس مارکیٹ میں غیر منصفانہ منافع ختم کرنے اور آنے والی سردیوں میں گیس کی بہتر فراہمی یقینی بنانے کے لیے نیا منصوبہ پیش کیا۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ منصوبے پیش کیے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت اجارہ دارانہ طریقوں کے خاتمے اور دیرینہ صوابدیدی کوٹہ سسٹم کو ختم کر کے ایل پی جی کے شعبے میں مسابقت کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اس شعبے میں میرٹ پر مبنی اور شفاف نظام کی ہدایت کی ہے۔
منصوبے کے تحت مقامی طور پر تیار ہونے والی ایل پی جی کے لیے شفاف نیلامی کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ رپورٹس کے مطابق اس کا مقصد چند بااثر گروہوں کی گرفت توڑنا ہے جو تقریباً 50 سال سے اس شعبے پر حاوی ہیں۔ ایل پی جی پانچ اور 10 ٹن کی مقدار میں مسابقتی نیلامی کے ذریعے فروخت ہوگی اور درآمد کو مسابقت کے لیے کھولا جائے گا۔ پاکستان میں روزانہ تقریباً 2,000 سے 2,500 ٹن ایل پی جی مقامی طور پر تیار ہوتی ہے۔
حکومت ایل پی جی پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ بھی قائم کرے گی۔ مستحق خاندانوں کو بی آئی ایس پی ڈیٹا بیس کے ذریعے ایل پی جی میں ریلیف ملے گا، جبکہ اوگرا ایل پی جی لائسنسنگ کے عمل کو مزید شفاف بنائے گی۔ وزیر پیٹرولیم کے مطابق ایل پی جی کی عالمی منڈی کی قیمت تقریباً 450 روپے فی کلوگرام بنتی ہے۔
سردیوں کی فراہمی کے لیے وزیر اعظم نے متعلقہ محکموں کو بلا تعطل گیس سپلائی کا جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی، جبکہ دسمبر اور جنوری کے لیے خصوصی منصوبہ بنایا جائے گا۔ ملک میں تقریباً ایک کروڑ گیس کنکشن ہیں اور لاکھوں دیگر گھرانے کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔ ایل این جی کی درآمد میں مشکلات نے اضافی چیلنج پیدا کیے ہیں۔ پاکستان اسٹیٹ آئل، سوئی سدرن گیس کمپنی اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ سے ایل این جی درآمد کا انتظام کرنے کو کہا گیا ہے، اور تمام کمپنیوں کو اپنی ویب سائٹس پر ایل این جی کی قیمتیں ظاہر کرنا ہوں گی۔ تھوک ایندھن کی خریداری پی ایس او اور سوئی سدرن کے ذریعے ہوگی۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت روزانہ کھانے کے تینوں اوقات میں گیس کی دستیابی یقینی بنانا چاہتی تھی۔ رپورٹس کے مطابق مغربی سرحد پر سپلائی کے مسائل کا فائدہ اٹھا کر کچھ لوگوں نے سردیاں قریب آنے پر ناجائز منافع کمایا۔
تارڑ نے کہا کہ حکومت نے پہلی بار ریفائنریوں کا منافع عوام کو منتقل کیا۔ مقامی ریفائنریوں کی مدد سے جمعے کو پیٹرول کی قیمت میں اضافہ روکا گیا اور حکومت عالمی سطح پر تیل کی گرتی قیمتوں کا فائدہ عوام تک پہنچانا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے روکنے کے لیے 133 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، بعد میں فیول ریلیف اسکیم کے ذریعے ہدفی نظام لایا گیا۔ ان کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والے تنازع کے بعد عالمی صورتحال نے معاشی چیلنج پیدا کیے مگر اہم معاشی اشاریے مستحکم رہے۔ اٹارنی جنرل کو نئے نظام سے متاثرہ زیر التوا مقدمات کی پیروی کی ہدایت کی گئی۔
یہ کیوں اہم ہے
ایل پی جی گھریلو اور ٹرانسپورٹ ایندھن ہے، اس لیے سپلائی اور قیمتوں میں تبدیلی رکشہ ڈرائیوروں اور کم آمدنی والے خاندانوں کو متاثر کرتی ہے۔ لاکھوں گھرانے کھانا پکانے کے لیے اسی پر انحصار کرتے ہیں۔



