ابھی ابھی
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

گوہر کی عمران خان کی صحت پر تشویش، سپریم کورٹ سے جلد سماعت کی استدعا

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ جیل میں عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ اطلاعات حوصلہ افزا نہیں۔ پارٹی نے سپریم کورٹ سے 18 اگست کے حکم پر عمل درآمد کی درخواست جلد سننے کی استدعا کی ہے۔

گوہر کی عمران خان کی صحت پر تشویش، سپریم کورٹ سے جلد سماعت کی استدعا
تصویر: Sixflashphoto / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • گوہر علی خان نے کہا کہ عمران خان کی حالت سے متعلق اطلاعات حوصلہ افزا نہیں۔
  • 18 اگست کے حکم پر عمل درآمد کے لیے جلد سماعت کی درخواست دائر۔
  • حکم میں اسپتال منتقلی اور میڈیکل بورڈ کی تشکیل کا کہا گیا تھا۔
  • گوہر نے عمران خان کی گرفتار بہنوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔
18 اگستزیر بحث حکم
16 ستمبرآخری سماعت
تین ہفتےاٹارنی جنرل کی مانگی مہلت

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے جمعہ کو سپریم کورٹ سے کہا کہ وہ عمران خان کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے سے متعلق 18 اگست کے حکم پر عمل درآمد کی درخواست سنے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اس معاملے کی جلد سماعت چاہتی ہے۔

ڈیلی ٹائمز کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں گوہر نے کہا کہ جیل میں پارٹی بانی کی جسمانی حالت کے بارے میں حالیہ اطلاعات حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پی ٹی آئی کی سینیٹر مشعال یوسفزئی نے عدالت سے رجوع کیا کیونکہ نہ سپریم کورٹ اور نہ ایف سی سی نے کیس سماعت کے لیے مقرر کیا تھا۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق 18 اگست کے حکم میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کو منتقل کر کے علاج فراہم کیا جائے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے میڈیکل بورڈ بنایا جائے۔ مشعال یوسفزئی ان درخواست گزاروں میں شامل ہیں جنہوں نے عدالت سے اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کا حکم مانگا تھا۔

درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان تنہائی میں قید ہیں اور اہل خانہ اور وکلا تک ان کی رسائی شدید طور پر محدود ہے۔ درخواست کے مطابق کسی بھی تاخیر سے ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔

مشعال یوسفزئی نے درخواست میں کہا: "ان کی صحت بگڑ رہی ہے، اور اس معزز عدالت کے پہلے سے دیے گئے احکامات کے باوجود طبی نگہداشت اور سہولتیں فراہم نہ کرنے سے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے بارے میں سنگین خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ ان حالات میں مزید تاخیر ان کی صحت کے لیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔" (انگریزی سے ترجمہ)

درخواست کے مطابق سپریم کورٹ نے 16 ستمبر کو سماعت دوبارہ شروع کی اور ایف سی سی کے ریکارڈ طلب کرنے کے حکم پر سوالات اٹھائے۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے سوالات کا جائزہ لینے کے لیے تین ہفتے مانگے جو عدالت نے دے دیے۔ درخواست میں کہا گیا کہ تین ہفتے گزر گئے مگر کیس آئندہ سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوا، اور آئینی و قانونی سوالات کا جلد فیصلہ ضروری ہے۔

ڈیلی ٹائمز کے مطابق سینئر وکیل سلمان صفدر نے عمران خان سے ملاقات کر کے ان کی خیریت معلوم کی اور ہدایات لیں۔ گوہر نے عمران خان کی گرفتار بہنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور حکام سے کہا کہ سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں بند کی جائیں۔

گوہر علی خان نے کہا: "اسمبلیوں کے ارکان، پارٹی کارکنوں اور حامیوں کو اٹھانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔" (انگریزی سے ترجمہ) ڈیلی ٹائمز کے مطابق قانونی ٹیمیں سیاسی قیدیوں کے لیے الگ الگ ضمانت کی درخواستیں تیار کر رہی ہیں۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 6 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ گوہر نے عمران خان کی صحت سے متعلق اطلاعات کو حوصلہ افزا نہیں کہا اور پارٹی نے 18 اگست کے حکم پر عمل درآمد کی درخواست جلد سننے کی استدعا کی ہے۔ اسپتال منتقلی پر جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔

یہ کیوں اہم ہے

عمران خان کی صحت اور عدالتی حکم پر عمل درآمد کا معاملہ پی ٹی آئی کے حامیوں اور سیاسی مبصرین سمیت ملک بھر میں قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔ جلد سماعت کی درخواست پر فیصلہ طے کرے گا کہ عدالت ان کی اسپتال منتقلی کا معاملہ کب دوبارہ سنتی ہے۔ کارکنوں کی گرفتاریاں بند کرنے کا مطالبہ حراست میں لیے گئے افراد کے اہل خانہ سے بھی تعلق رکھتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

عمران خانپی ٹی آئیسپریم کورٹ

اس خبر پر مزید