ابھی ابھیجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبورقومی اسمبلی کمیٹی کے سامنے ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے مبینہ غلط استعمال پر سوالات
پاکستان5 ذرائع سے تصدیق شدہ

ٹانک میں مسلح افراد نے چار پولیو ورکرز کو اغوا کرلیا

خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کے بعد پولیو سے بچاؤ کے چار ورکرز کو اغوا کرلیا۔ پولیس نے تحقیقات اور ورکرز کی بازیابی کی کوششیں شروع کردی ہیں۔

This photo captures members of Rotaract E-Club Mighty, District 9126, participating in the End Polio Awareness Mountain Hike held in Ado-Ekiti, Ekiti State, Ni…
This photo captures members of Rotaract E-Club Mighty, District 9126, participating in the End Polio Awareness Mountain Hike held in Ado-Ekiti, Ekiti State, Ni… تصویر: ROTARACT E-CLUB MIGHTY / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • ٹانک کی یونین کونسل شیخ اتار کے ایک گاؤں سے چار پولیو ورکرز اغوا ہوئے۔
  • پولیس کے مطابق مسلح افراد انہیں نامعلوم مقام پر لے گئے۔
  • اعظم ورسک میں اغوا ہونے والے دو ویکسینیٹرز کو بعد میں چھوڑ دیا گیا۔
  • خیبر پختونخوا میں ملک کا ساتواں پولیو کیس سامنے آیا۔
4ٹانک میں اغوا ہونے والے پولیو ورکرز
7اس سال ملک میں پولیو کیسز
6خیبر پختونخوا کے کیسز

خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرنے کے بعد پولیو سے بچاؤ کے چار ورکرز کو اغوا کرلیا۔ یہ بات ایکسپریس نیوز، ایکسپریس ٹریبیون اور ڈیلی ٹائمز کی رپورٹس میں بتائی گئی ہے۔

واقعہ ٹانک کی یونین کونسل شیخ اتار کے ایک گاؤں میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق مسلح افراد چاروں ورکرز کو کسی نامعلوم مقام پر لے گئے۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور ورکرز کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون اور ڈیلی ٹائمز کے مطابق ملزمان کے بارے میں تفصیلات اور اغوا شدہ ورکرز کے ٹھکانے کا فوری طور پر علم نہیں ہوسکا۔

الگ واقعے میں لوئر جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں پولیو ویکسینیشن ٹیم کے دو ارکان کو اغوا کیا گیا، تاہم دونوں کو بعد میں رہا کردیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ملوث مشتبہ افراد کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ تھے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبر پختونخوا کے اضلاع ہنگو، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں پیر کو چار روزہ انسداد پولیو مہم شروع ہوئی۔ ہنگو کے ڈی پی او صلاح الدین کنڈی، بنوں کے ڈی پی او شفیع اللہ گنڈاپور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈی پی او ضیاء الدین احمد مہم کی سکیورٹی کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔

پولیس اہلکاروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ استعمال کریں، موبائل فون کے استعمال سے گریز کریں اور ڈیوٹی پر مکمل چوکس رہیں۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر فار پولیو ایریڈیکیشن نے خیبر پختونخوا سے اس سال کے ساتویں پولیو کیس کی تصدیق کی ہے۔ متاثرہ بچی 13 ماہ کی ہے اور تحصیل باڑہ کی یونین کونسل جان باز کی رہائشی ہے۔ ضلع خیبر سے اس سال یہ دوسرا کیس ہے۔ ملک بھر کے سات کیسز میں سے چھ خیبر پختونخوا اور ایک سندھ سے ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

پولیو ٹیموں پر حملے ملک بھر کے بچوں کو تحفظ دینے والی ویکسینیشن مہم کے لیے خطرہ ہیں۔ اس سال کے سات میں سے چھ پولیو کیسز خیبر پختونخوا سے ہیں، جہاں یہ اغوا ہوا۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پولیوٹانکخیبر پختونخوا

اس خبر پر مزید