یورپی گیس کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر، سپلائی خدشات
پیر کو یورپی گیس فیوچرز 3.3 فیصد بڑھ کر تقریباً 97 یورو فی میگاواٹ آور ہو گئے، جو دسمبر 2022 کے بعد سب سے بلند سطح ہے۔ تاجروں نے مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی کے خدشات اور سردیوں سے پہلے کم ذخائر کا حوالہ دیا۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- پیر کو 0820 جی ایم ٹی پر یورپی گیس فیوچرز 97.15 یورو فی میگاواٹ آور پر تھے، جمعہ کی بندش سے 3.3 فیصد زیادہ۔
- اناطولیہ کے مطابق خلیج فارس سے ایل این جی کی ترسیل سالانہ بنیاد پر تقریباً 80 فیصد کم ہے۔
- گیس انفراسٹرکچر یورپ کے مطابق یورپی یونین کے ذخائر گنجائش کے 74.6 فیصد پر ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث آنے والی سردیوں میں سپلائی کے خدشات بڑھنے سے پیر کو یورپی قدرتی گیس کی قیمتیں تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
اناطولیہ ایجنسی کے مطابق 0820 جی ایم ٹی پر یورپی گیس فیوچرز 97.15 یورو (تقریباً 108.8 ڈالر) فی میگاواٹ آور پر ٹریڈ ہو رہے تھے۔ یہ جمعہ کی بندش سے 3.3 فیصد زیادہ اور دسمبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ گارجین نے بھی پیر کو ہول سیل قیمت 97 یورو فی میگاواٹ آور تک پہنچنے کی اطلاع دی۔
اناطولیہ کے مطابق خلیج فارس سے مائع قدرتی گیس کی ترسیل، جو پہلے عالمی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ تھی، گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد کم ہے۔ گارجین کے مطابق یورپ بھر میں درجہ حرارت گرنے سے تاجروں نے گرمائش کے لیے زیادہ طلب کا اندازہ لگایا۔
ذخائر کی صورتحال دباؤ بڑھا رہی ہے۔ گیس انفراسٹرکچر یورپ کے مطابق یورپی یونین کے ذخائر صرف 74.6 فیصد بھرے ہیں، جو تاریخی موسمی اوسط سے خاصا کم ہے۔ گارجین نے لکھا کہ ذخائر تقریباً 75 فیصد ہیں جبکہ موسمی اوسط 80 فیصد کے قریب ہے، اور یہ ایک دہائی سے زیادہ میں کم ترین سطح ہے، جس کی وجہ قطر سے برآمدات میں سستی اور گرمیوں میں ٹھنڈک کے لیے زیادہ کھپت بتائی گئی۔
گارجین نے قیمتوں میں اضافے کو ان اطلاعات سے جوڑا کہ امریکا اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں۔ اس کے مطابق انہی اطلاعات سے جمعہ کو تیل 117 ڈالر فی بیرل تک گیا۔ پیر کو برینٹ خام تیل تقریباً 2 فیصد گرا مگر 114 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہا۔
برطانیہ میں ایک ماہ آگے کا گیس کنٹریکٹ 4 فیصد بڑھ کر 240 پینس فی تھرم ہو گیا، جو دسمبر 2022 کے بعد بلند ترین ہے۔ گارجین کے مطابق برطانوی ریگولیٹرز نے خبردار کیا ہے کہ درآمدات پر انحصار اور چھوٹے ذخائر کی وجہ سے ملک کو اس سردی میں یورپ کی بلند ترین توانائی لاگت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ جنوری میں گھریلو بل 16 فیصد بڑھ کر عام سالانہ بل کے لیے تقریباً 2000 پاؤنڈ ہونے کا اندازہ ہے۔
پیر کو تیل کی کمزور قیمت پر یورپی حصص معمولی بڑھے۔ ابتدائی تجارت میں اسٹاکس یورپ 600 میں 0.3 فیصد اور ایف ٹی ایس ای 100 میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان کی توانائی درآمدات عالمی ایل این جی قیمتوں پر منحصر ہیں، جنہیں یورپی گیس کی قیمتوں میں اضافہ اوپر دھکیلتا ہے۔



