امریکی وسط مدتی انتخابات: 4 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ ووٹ پہلے ڈالے گئے
امریکی وسط مدتی انتخابات میں تین دن باقی ہیں اور 4 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ امریکی پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ڈیموکریٹس قومی سروے میں آگے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ آخری جلسے کریں گے۔

- ایسوسی ایٹڈ پریس کے تجزیے کے مطابق 4 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ امریکی قبل از وقت ووٹ ڈال چکے ہیں۔
- ریئل کلیئر پولنگ کی قومی اوسط میں ڈیموکریٹس کو 8.2 پوائنٹ کی برتری حاصل ہے۔
- انتخاب کا دن منگل ہے اور ٹرمپ اتوار کو آئیووا اور کینساس میں جلسے کریں گے۔
الجزیرہ کے مطابق امریکی وسط مدتی انتخابات میں تین دن باقی ہیں، ڈیموکریٹس قومی رائے عامہ کے جائزوں میں آگے ہیں اور قبل از وقت ووٹنگ میں تیزی آئی ہے۔ انتخاب کا دن منگل ہے۔
جمعے کو جاری ہونے والے ایسوسی ایٹڈ پریس کے تجزیے کے مطابق پولنگ کے دن سے پانچ دن پہلے تک 4 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ امریکی بالمشافہ یا ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈال چکے تھے۔ یہ تعداد 2022 کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے اسی مرحلے کے مقابلے میں تقریباً ایک کروڑ زیادہ ہے۔
ٹیکساس میں بدھ تک 63 لاکھ سے زیادہ افراد قبل از وقت ووٹ دے چکے تھے، جبکہ 2022 میں اسی مرحلے پر یہ تعداد 42 لاکھ تھی، یعنی 50 فیصد اضافہ۔ جارجیا میں جمعے کی صبح تک 25 لاکھ سے زیادہ ووٹ ڈالے جا چکے تھے، جو 2022 کی قبل از وقت ووٹنگ کے 23 لاکھ سے زیادہ ہیں۔ اے پی کے تجزیے کے مطابق مین، مشی گن، شمالی کیرولائنا اور کینساس میں 2022 کے مقابلے میں قبل از وقت ووٹنگ 30 فیصد سے زیادہ بڑھی۔ ابتدائی ووٹنگ کے اعداد سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ووٹروں نے کن امیدواروں کو چنا یا حتمی نتائج کیا ہوں گے۔
ریئل کلیئر پولنگ کی تازہ قومی اوسط کے مطابق ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر 8.2 پوائنٹ کی برتری حاصل ہے، یعنی 51.4 فیصد کے مقابلے میں 43.2 فیصد۔ جمعرات کو جاری اکانومسٹ/یوگوو سروے میں 44 فیصد رجسٹرڈ ووٹروں نے ایوان نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول کی توقع ظاہر کی، جبکہ 31 فیصد نے ریپبلکنز کے برقرار رکھنے کی توقع کی۔ سینیٹ کے بارے میں 39 فیصد ڈیموکریٹک اور 36 فیصد ریپبلکن اکثریت کی توقع رکھتے ہیں۔
ساباتو کرسٹل بال کے منیجنگ ایڈیٹر کائل کونڈک نے کہا: "ایوان نمائندگان کے عمومی بیلٹ سروے میں ڈیموکریٹس کی بڑی برتری سے لگتا ہے کہ ایوان کا ڈیموکریٹس کے پاس جانا تقریباً یقینی ہے۔" (انگریزی سے ترجمہ) انہوں نے مزید کہا: "تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ سینیٹ بھی پلٹ جائے گا، ایسا ہو سکتا ہے، لیکن وہاں معاملہ کہیں زیادہ غیر یقینی ہے۔" (انگریزی سے ترجمہ) ڈیموکریٹک حکمت عملی ساز سیلندا لیک نے کہا: "بہت سے ووٹر کہتے ہیں کہ ہم تبدیلی کے لیے آخری داؤ کھیل رہے ہیں، لیکن امید ہے کہ آپ کچھ کر کے دکھائیں گے۔" (انگریزی سے ترجمہ)
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے آخر کے دو جلسے منسوخ کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا اور وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ اتوار کو کینساس اور آئیووا میں دونوں جلسے ہوں گے۔ یہ جلسے جمعرات کو منسوخ کیے گئے تھے اور وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ ٹرمپ اس کے بجائے تقریباً 20 ٹیلی فونک انتخابی تقریبات میں شریک ہوں گے۔ جمعے کو ٹرمپ نے فلوریڈا میں مہم چلائی، جہاں ریپبلکنز سینیٹ اور گورنر کی نشستوں کا دفاع کر رہے ہیں، جبکہ سابق صدر بل کلنٹن نے مسیسپی میں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے مہم چلائی۔
آئیووا میں ٹرمپ سے ریپبلکن سینیٹ امیدوار ایشلے ہنسن کی حمایت کی توقع ہے۔ کینساس میں وہ سینیٹر راجر مارشل کے ساتھ مہم چلائیں گے، جن کا مقابلہ ڈیموکریٹ ایڈم ہیملٹن سے ہے؛ ایمرسن کالج کے ایک سروے کے مطابق ہیملٹن 49 فیصد کے مقابلے میں 45 فیصد سے آگے ہیں۔ ٹیکساس میں ریپبلکن سینیٹ امیدوار کین پیکسٹن نے ایل پاسو کی تقریب منسوخ کر کے ہیرس کاؤنٹی پر توجہ دی، جبکہ ڈیموکریٹ جیمز تالاریکو بھی ہیوسٹن میں آخری کوششیں کر رہے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
انتخابی نتائج واشنگٹن کی تجارت، محصولات، افغانستان اور خطے سے متعلق پالیسیوں پر اثر ڈال سکتے ہیں، جن کا اثر پاکستان پر پڑتا ہے۔



