ابھی ابھیغیر ملکی معدنی سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس مراعات کا منصوبہسپریم کورٹ: بیوی پر تشدد سرکاری ملازم کی سروس سے متعلق بدعنوانی ہےپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن میں کمی
کاروبار7 ذرائع سے تصدیق شدہ

ایس ای سی پی نے 39,704 کمپنیاں غیر فعال قرار دے دیں، نئے بینک اکاؤنٹ پر پابندی

ایس ای سی پی نے چار سال تک سالانہ گوشوارے یا مالی حسابات جمع نہ کرانے پر 39,704 کمپنیوں کو "غیر فعال" قرار دیا ہے۔ یہ کمپنیاں واجب الادا دستاویزات جمع کرانے تک نیا بینک اکاؤنٹ نہیں کھول سکتیں۔

Photo: cheque guarantee card, credit card, credit cards, ec cards
Photo: cheque guarantee card, credit card, credit cards, ec cards تصویر: falco / Pixabay

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • ہفتے کو 39,704 کمپنیاں رجسٹرار کی جانب سے غیر فعال قرار
  • غیر فعال کمپنیاں نیا بینک اکاؤنٹ نہیں کھول سکتیں اور ڈائریکٹرز میں تبدیلی رجسٹر نہیں کرا سکتیں
  • سب سے زیادہ کمپنیاں لاہور (13,927) اور اسلام آباد (13,859) میں ہیں
  • واجب الادا دستاویزات جمع کرانے پر کمپنی دوبارہ فعال ہو سکتی ہے
39,704غیر فعال قرار دی گئی کمپنیاں
13,927لاہور میں غیر فعال کمپنیاں
13,859اسلام آباد میں غیر فعال کمپنیاں
317,002ستمبر 2026 کے اختتام پر رجسٹرڈ کمپنیاں

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ہفتے کو 39,704 کمپنیوں کو غیر فعال قرار دے دیا، کیونکہ انہوں نے چار سال سے سالانہ گوشوارے اور یا مالی حسابات جمع نہیں کرائے تھے۔

ایس ای سی پی کے مطابق اس اقدام سے کارپوریٹ رجسٹر زیادہ قابلِ اعتماد ہوگا اور غیر فعال کمپنیوں کے غلط استعمال کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ غیر فعال حیثیت نظام میں بینکوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نظر آئے گی۔

اس حیثیت کے تحت غیر فعال کمپنیاں واجب الادا دستاویزات جمع کرانے اور دوبارہ فعال ہونے تک نیا بینک اکاؤنٹ نہیں کھول سکتیں۔ انہیں مالی خدمات تک رسائی نہیں ملے گی اور وہ اپنے ڈائریکٹرز میں تبدیلی بھی رجسٹر نہیں کرا سکتیں۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق ان کمپنیوں کے موجودہ بینک اکاؤنٹ بھی گوشوارے مکمل ہونے تک منجمد کر دیے گئے ہیں۔

شہروں کے لحاظ سے لاہور میں 13,927، اسلام آباد میں 13,859، کراچی میں 4,868، پشاور میں 2,031، ملتان میں 1,861، فیصل آباد میں 1,384، گلگت میں 1,102 اور کوئٹہ میں 436 کمپنیاں غیر فعال ہوئیں۔ سکھر کے لیے ٹیک جوس نے 236 اور ڈیلی پاکستان نے 228 کی تعداد دی ہے۔

ایس ای سی پی نے کہا کہ کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت سالانہ گوشوارے اور جہاں ضروری ہو مالی حسابات جمع کرانا قانونی تقاضا ہے۔ اس کے مطابق طویل عرصے تک یہ دستاویزات جمع نہ کرانے سے کارپوریٹ رجسٹر کمزور ہوتا ہے اور منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا: "شفاف اور قابلِ اعتماد کارپوریٹ رجسٹر، کاروباری اعتماد کی بنیاد ہے"۔

ٹیک جوس کے مطابق ستمبر 2026 کے اختتام پر ملک میں 317,002 کمپنیاں رجسٹرڈ تھیں۔ گزشتہ مالی سال میں 43,559 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جو پچھلے سال سے 24 فیصد زیادہ ہیں، اور 99.9 فیصد نئی کمپنیاں آن لائن رجسٹر ہوئیں۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان میں جن کمپنیوں نے چار سال سے گوشوارے جمع نہیں کرائے، وہ دستاویزات جمع کرانے تک بینکاری اور ڈائریکٹرز کی تبدیلی میں پابندیوں کا سامنا کریں گی۔ اس کا اثر کاروباری اداروں، خصوصاً لاہور اور اسلام آباد میں، اور ان سے معاملہ کرنے والے بینکوں پر پڑتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایس ای سی پیکمپنیاںبینکاری

اس خبر پر مزید