ابھی ابھیپاکستان کے چین کے ساتھ تعلیم کے 11 معاہدے، نوجوانوں کی مہارتوں پر زوریوکرین کے گاؤں کومیشووخا میں اسکول پر روسی حملہ، کم از کم 31 ہلاکپاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ پہلے فضا سے فضا میں مار کرنے والے فعاذ میزائل کا تجربہ
کاروبار3 ذرائع سے تصدیق شدہ

ستمبر میں چاول کی ماہانہ برآمدات میں پاکستان ویتنام سے آگے نکل گیا

پاکستان نے ستمبر 2026 میں 4 لاکھ 20 ہزار ٹن چاول برآمد کیا جبکہ ویتنام کی برآمدات 3 لاکھ 37 ہزار ٹن رہیں۔ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں برآمدی حجم 51 فیصد بڑھا۔

Photo: rice field, paddy field, agriculture, farming
Photo: rice field, paddy field, agriculture, farming تصویر: ignartonosbg / Pixabay

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • ستمبر 2026 میں پاکستان کی چاول برآمدات 4 لاکھ 20 ہزار ٹن، ویتنام کی 3 لاکھ 37 ہزار ٹن
  • جولائی تا ستمبر 2026 برآمدی حجم میں 51 فیصد اضافہ
  • اسی عرصے میں چاول سے زرمبادلہ کی آمدن 37 فیصد بڑھی
4 لاکھ 20 ہزار ٹنستمبر 2026 میں پاکستان کی چاول برآمدات
3 لاکھ 37 ہزار ٹنستمبر 2026 میں ویتنام کی چاول برآمدات
51 فیصدجولائی تا ستمبر 2026 برآمدی حجم میں اضافہ
37 فیصدزرمبادلہ کی آمدن میں اضافہ

ایکسپریس نیوز اور 24 نیوز کی رپورٹس کے مطابق پاکستان ستمبر 2026 میں چاول کی ماہانہ برآمدات میں ویتنام کو پیچھے چھوڑ کر چاول برآمد کرنے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر آ گیا۔ یہ پیش رفت خلیجی خطے میں کشیدگی اور عالمی بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باوجود ہوئی۔

پاکستان نے اس ماہ 4 لاکھ 20 ہزار ٹن چاول برآمد کیا، جبکہ ویتنام کی برآمدات 3 لاکھ 37 ہزار ٹن رہیں۔ 24 نیوز ایچ ڈی ٹی وی چینل کے مطابق ستمبر میں پاکستان کو اوسطاً 621 ڈالر فی ٹن ملے، جبکہ ویتنامی برآمد کنندگان کو 563 ڈالر فی ٹن ملے۔

مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی چاول برآمدات کا حجم گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 51 فیصد بڑھا۔ جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران چاول کی برآمدات سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ میں 37 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کی کشیدگی اور خلیج میں بحری رکاوٹوں کے باوجود پاکستانی چاول، خاص طور پر باسمتی، کی عالمی مانگ برقرار رہی۔ باسمتی کی عالمی تجارت تقریباً 69 لاکھ ٹن رہی، جو 2025 کے برابر ہے۔

چاول کی صنعت کے ماہر حامد ملک نے کہا کہ دسمبر 2025 کے بعد پاکستان کی برآمدی کارکردگی بہتر ہوئی، جب دو دہائیوں سے زائد عرصے میں پہلی بار پاکستان ماہانہ برآمدی حجم میں ویتنام سے آگے نکلا تھا۔ ان کے مطابق اس بہتری کی وجہ ذخائر کی وافر مقدار اور حالیہ بوائی کے سیزن میں چاول کی کاشت میں 18 سے 20 فیصد اضافہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق 2025 میں پاکستان، تھائی لینڈ اور ویتنام کی چاول برآمدات میں موسم کی ناموافق صورتحال اور مارکیٹ کے دباؤ کے باعث نمایاں کمی آئی، جبکہ بھارت عالمی چاول تجارت میں نمایاں رہا۔ پاکستان، تھائی لینڈ اور ویتنام سمیت بڑے برآمد کنندگان کی غیر خوشبودار چاول کی برآمدات میں عمومی طور پر 20 سے 30 فیصد کمی ہوئی۔

پاکستان کا چاول برآمدی شعبہ زیادہ تر نجی کاروبار اور مارکیٹ کی بنیاد پر خریداری سے چلتا ہے۔ اسے دھان کی سرکاری کم از کم امدادی قیمت، سرکاری سمندری بیمہ یا مال برداری کی رعایت حاصل نہیں۔ 2026 میں اندرون ملک نقل و حمل اور پروسیسنگ کے زیادہ اخراجات، شپمنٹ میں تاخیر اور ادائیگیوں کے طویل دورانیے نے تاجروں پر دباؤ بڑھایا۔

ماہرین کے مطابق برآمدات میں اضافہ زرمبادلہ کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے، تاہم مسابقت برقرار رکھنے کے لیے معیار، پیداواری لاگت اور برآمدی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔

یہ کیوں اہم ہے

چاول کی برآمدات سے ملک کو زرمبادلہ ملتا ہے اور اس کا اثر پاکستان بھر کے کسانوں اور روزگار پر پڑتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق تاجروں کو سرکاری قیمت یا مال برداری کی معاونت کے بغیر زیادہ اخراجات اور تاخیر کا سامنا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

چاول کی برآمداتویتنامتجارت

اس خبر پر مزید