ابھی ابھیغیر ملکی معدنی سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس مراعات کا منصوبہسپریم کورٹ: بیوی پر تشدد سرکاری ملازم کی سروس سے متعلق بدعنوانی ہےپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن میں کمی
دنیا2 ذرائع سے تصدیق شدہ

روبیو: ٹرمپ ایران جنگ پرامن طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں، قطر میں مذاکرات جاری

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا اور پرامن راستے کو ترجیح دیں گے۔ اتوار کو ثالثوں کے مذاکرات کا مسلسل تیسرا دن تھا جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے رہے۔

Photo: artificial islands, qatar, doha, panorama
Photo: artificial islands, qatar, doha, panorama تصویر: Konevi / Pixabay
اہم نکات
  • روبیو کے مطابق ٹرمپ نے فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا اور پرامن راستہ چاہتے ہیں۔
  • قطر امریکا اور ایران کے بالواسطہ مذاکرات کی قیادت کر رہا ہے، جن میں آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
  • ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے لڑائی دوبارہ شروع ہونے پر جغرافیائی حد کے بغیر جواب کا انتباہ دیا۔
  • یو کے ایم ٹی او کے مطابق اتوار کو آبنائے ہرمز میں ایک جہاز نامعلوم پروجیکٹائل سے ٹکرایا۔
3 نومبروسط مدتی انتخابات
فروریجنگ کا آغاز
مسلسل 3ثالثوں کے مذاکرات کے دن

سی این بی سی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، تاہم وہ جنگ کا پرامن خاتمہ چاہیں گے۔ روبیو نے کہا: "انہوں نے [ٹرمپ] نے فیصلہ نہیں کیا... صدر آپ کے سامنے جس چیز کا اظہار کرتے ہیں وہ یہ زبردست اعتماد ہے کہ اگر ہمیں فوجی طور پر کچھ کرنا پڑا تو ہم اس کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور کامیابی کے لیے ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے۔ لیکن ہم اسے پرامن طریقے سے کرنے کو ترجیح دیں گے۔" (انگریزی سے ترجمہ)

یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب رپورٹوں کے مطابق دونوں فریق مزید حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ امریکا 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ نئی فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق ثالثوں نے اتوار کو مسلسل تیسرے روز مذاکرات کیے جن کا مقصد لڑائی کی بحالی روکنا ہے۔ قطر امریکا اور ایران کے بالواسطہ مذاکرات کی قیادت کر رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کار قطر میں ایک ایسی تجویز پر بات کر رہے ہیں جس سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکتی ہے، اور نتیجہ امریکی جوابات پر منحصر ہے۔

ٹرمپ نے ہفتے کو کہا کہ ایران میں امریکا کے پاس اب بھی کچھ اہداف باقی ہیں، اور پکیکس ماؤنٹین کے مبینہ جوہری کمپلیکس کو ممکنہ ہدف قرار دیا۔ اتوار کو انہوں نے کہا کہ انہیں کسی غیر متعین وقت پر تہران پر "ہتھوڑا" چلانا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا: "یا تو وہ معاہدہ کر لیں گے، یا ہم اسے ختم کر دیں گے۔" (انگریزی سے ترجمہ) انہوں نے مزید کہا: "ہمیں ایسی فتح ملی ہے، اور ہم جلد ہی اسے نمٹا دیں گے، کسی نہ کسی طریقے سے۔" (انگریزی سے ترجمہ)

ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہفتے کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ان کی بہت اچھی بات ہوئی، تاہم تفصیل نہیں بتائی۔ ایکسیوس کے ذرائع کے مطابق نیتن یاہو نے ٹرمپ پر ایران پر حملے کے لیے زور دیا، جبکہ ٹرمپ مذاکرات کو موقع دینا چاہتے ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مسلح افواج کو حکم دیا کہ ہر خطرے کا فوری، مؤثر اور جغرافیائی پابندی کے بغیر جواب دیا جائے۔ انہوں نے فوجی ڈیٹابیس کو اپ ڈیٹ کرنے کا بھی حکم دیا تاکہ امریکی اور اسرائیلی اثاثے افواج کی پہنچ میں آ سکیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے برطانیہ کی ملٹری انٹیلی جنس سروسز کو معاندانہ گروہ قرار دیا اور رائل نیوی اور فضائیہ پر دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کا الزام لگایا۔ وزارت کے مطابق یہ اقدام لندن کی کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں سپاہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا شامل ہے۔ ایران نے برطانیہ پر امریکی افواج کو اپنے فوجی اڈوں تک رسائی دینے کا بھی الزام لگایا۔ بی بی سی کے مطابق برطانیہ نے امریکی افواج کو ایران پر حملوں کے لیے آر اے ایف فیئرفورڈ اور ڈیگو گارشیا استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے بحرین میں سکیورٹی فورم سے خطاب میں کہا کہ ان کا ملک سفارتی پیش رفت کا امید مند ہے لیکن کشیدگی بڑھنے کی تیاری بھی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا: "ہم واقعی خطے میں تصادم کا ایک اور دور نہیں دیکھنا چاہتے۔" (انگریزی سے ترجمہ) برطانوی ادارے یو کے ایم ٹی او کے مطابق اتوار کو آبنائے ہرمز میں ایک جہاز نامعلوم پروجیکٹائل سے ٹکرایا۔ قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق قطری گیس بردار جہاز العیدہ پر جمعہ کو نامعلوم اشیا سے حملہ ہوا؛ عملے کا کوئی فرد زخمی نہیں ہوا اور ماحولیاتی اثر نہیں ہوا۔ رپورٹوں کے مطابق فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران آبنائے ہرمز اور خلیج میں جہازوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

امریکا ایران جنگ تیل کی قیمتوں اور خلیج کے استحکام پر اثر ڈالتی ہے، جو پاکستان کی معیشت اور ایندھن کے اخراجات سے جڑے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں پر حملے اس تشویش میں اضافہ کرتے ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایرانآبنائے ہرمزامریکا ایران جنگ

اس خبر پر مزید