وزیراعظم کی علی بابا شراکت کے اے آئی منصوبوں کے لیے نومبر کی ڈیڈ لائن
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ وزارتوں کو علی بابا گروپ کے ساتھ شراکت کے منصوبوں کے اقدامات نومبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے بدھ 28 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔

- وزارتوں کو نومبر تک مطلوبہ اقدامات مکمل کر کے پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت
- علی بابا کے پلیٹ فارم پر برآمدات کے فروغ کے لیے پاکستان پویلین قائم
- اے آئی کینسر تشخیص کے پائلٹ منصوبے اور آئی ٹی گریجویٹس کی 15 روزہ اے آئی تربیت میں تیزی کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ علی بابا گروپ کے ساتھ پاکستان کی اسٹریٹجک شراکت کے تحت منصوبوں کے تمام ضروری اقدامات نومبر تک مکمل کیے جائیں۔ ان منصوبوں کا مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکنالوجی پر مبنی معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
اسلام آباد میں جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تجارت، برآمدات، زرعی پیداوار، کاروباری سہولت اور عوامی خدمات بہتر بنانے کے لیے اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال ضروری ہے۔ انہوں نے چینی منڈیوں میں پاکستانی زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے علی بابا کے تعاون کا خیرمقدم کیا اور زراعت کو خودکار نظام کے ذریعے جدید بنانے پر زور دیا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ شراکت کے تمام منصوبے واضح اہداف، مقررہ مدت اور مؤثر نگرانی کے نظام کے ساتھ مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے وزارتوں سے پیش رفت رپورٹس جمع کرانے کو کہا تاکہ شراکت کے ٹھوس نتائج سامنے آئیں۔
اجلاس کو مختلف شعبوں میں پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ اے آئی پر مبنی زرعی ماڈلز، تمباکو کی ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکنالوجی اور کینو و زیتون کی برآمد کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام جاری ہے۔ پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے کے لیے علی بابا کے پلیٹ فارم پر ایک مخصوص پاکستان پویلین بھی قائم کیا جا چکا ہے۔
پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے تجارتی دستاویزات کی ڈیجیٹل تصدیق کا نظام فعال ہو چکا ہے۔ اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) اور علی بابا کے اشتراک سے دو سالہ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو تربیت اور ای کامرس کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی دی جائے گی۔
شہباز شریف نے اے آئی کی مدد سے کینسر کی تشخیص کے مجوزہ پائلٹ منصوبے میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے علی بابا کے اشتراک سے آئی ٹی گریجویٹس کے لیے ٹیکنالوجی پروگرام ’اگنائٹ‘ کے تحت 15 روزہ اے آئی تربیتی پروگرام جلد شروع کرنے کا بھی کہا۔
توانائی کے شعبے میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو ایندھن کی سپلائی چین کے ڈیٹا کے تجزیے کے لیے اے آئی اور بزنس انٹیلیجنس ٹولز فراہم کیے جا رہے ہیں، اور وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کے لیے تجزیاتی نظام جلد متعارف کرانے کو کہا۔ اجلاس میں ایف بی آر اور پراسیس کی خودکاری کے ادارے پرال کے لیے جدید ڈیٹا پلیٹ فارم اور مرکزی ڈیٹا حب کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اعلیٰ تعلیم، ریلوے، ڈاک اور شہری انتظام میں اے آئی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے اقدامات تکمیل کے قریب ہیں۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ چین کے دورے کے دوران ہانگژو میں علی بابا کے صدر دفتر میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے۔ اجلاس میں کئی وفاقی وزراء اور سینئر حکام شریک تھے۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ منصوبے عوامی خدمات، برآمدات، ٹیکس نظام اور ایندھن کی نگرانی سے متعلق ہیں، جن سے پاکستان میں شہری اور کاروبار متاثر ہوتے ہیں، خصوصاً چھوٹے کاروبار جو عالمی منڈیوں تک رسائی چاہتے ہیں۔



