پاکستان موجودہ یورو بانڈ قرض کی ٹوکنائزیشن پر غور کر رہا ہے: اورنگزیب
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے موجودہ یورو بانڈ قرض کی ٹوکنائزیشن کا جائزہ لے رہا ہے۔ حکومت درخواستِ تجاویز جاری کرنے سے پہلے کابینہ کی منظوری چاہتی ہے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- وزیر خزانہ اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ یورو بانڈ قرض کی ٹوکنائزیشن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
- درخواستِ تجاویز جاری کرنے سے قبل کابینہ کی منظوری کا انتظار ہے۔
- بینکوں پر ورچوئل اثاثے رکھنے یا ان کی تجارت کی پابندیاں برقرار ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پیر کو کہا کہ پاکستان اپنے موجودہ یورو بانڈ قرض کی ٹوکنائزیشن کا جائزہ لے رہا ہے۔ وہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور لمز کے زیر اہتمام ڈیجیٹل اثاثوں اور بینکاری کے مستقبل پر مکالمے سے خطاب کر رہے تھے۔ 24 نیوز کے مطابق انہوں نے ورچوئل خطاب کیا۔
اورنگزیب نے کہا کہ حکومت اس تجویز پر بات چیت کر رہی ہے اور درخواستِ تجاویز جاری کرنے سے پہلے کابینہ کی منظوری چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا: "وزارت خزانہ اور حکومت پاکستان اس وقت ہمارے موجودہ یورو بانڈ قرض کی ٹوکنائزیشن کا جائزہ لے رہی ہے۔ ہم اس وقت بات چیت میں ہیں اور اس پر کابینہ کی منظوری کے منتظر ہیں، اس کے بعد ہی ہم درخواستِ تجاویز جاری کریں گے۔" (انگریزی سے ترجمہ)
انہوں نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل مالیاتی ٹیکنالوجیز پر عملی تجاویز تیار کریں اور انہیں پرکھنے کی مہارت میں سرمایہ کاری کریں۔ اورنگزیب نے کہا: "آپ صارفین سے تعلقات، عملی تجربہ اور خطرات کے انتظام کی صلاحیت لاتے ہیں جو اس کام کے لیے درکار ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کو جانچنے کی مہارت میں سرمایہ کاری کریں اور اپنے دائرہ اختیار میں اجازت یافتہ سرگرمیوں پر متعلقہ ریگولیٹرز کے ساتھ اور اپنے بورڈز کی معاونت سے کام کریں۔" (انگریزی سے ترجمہ)
وزیر خزانہ نے کہا کہ بینکوں کے اپنے فنڈز یا صارفین کی ڈپازٹس سے ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری، تجارت یا انہیں رکھنے پر پابندیاں برقرار ہیں۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل مالیاتی جدت کے ساتھ مناسب تحفظات، ریگولیٹری نگرانی اور سائبر سکیورٹی اقدامات ضروری ہیں۔
سکیورٹی کے بارے میں اورنگزیب نے کہا: "ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم پر ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی طرف سے چوبیس گھنٹے حملے ہو رہے ہیں، اس لیے غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔" (انگریزی سے ترجمہ)
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے ذریعے قانونی ڈھانچہ قائم کر لیا ہے۔ ان کے مطابق اگلا مرحلہ مؤثر نگرانی اور اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے ذریعے اس قانون پر عملدرآمد ہے۔
اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کو ایسی مالیاتی جدت درکار ہے جو کاروبار کی لاگت کم کرے اور مزید لوگوں کو باضابطہ معیشت میں لائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے لیے مالی نظم و ضبط، مضبوط برآمدات اور نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ضروری ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان کے سرکاری قرض کو رکھنے کے طریقے میں تبدیلی بینکوں، سرمایہ کاروں اور حکومت کے قرض کی لاگت پر اثر ڈال سکتی ہے۔ بینکوں کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ورچوئل اثاثے رکھنے پر موجودہ پابندیاں برقرار ہیں۔



