ابھی ابھیحکومت کا پیٹرولیم لیوی ختم کرنے سے انکار، بعض شعبوں کو ایندھن میں رعایتامریکی وسط مدتی انتخابات 2026: کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ووٹروں کے ہاتھ میںپیٹرولیم قیمتوں میں مزید ریلیف کا عندیہ، ایل پی جی مارکیٹ مسابقت کے لیے کھلے گی
ٹیکنالوجی7 ذرائع سے تصدیق شدہ

نیشنل سرٹ کا واٹس ایپ ویب میلویئر حملوں پر ہائی لیول الرٹ

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے واٹس ایپ ویب، ڈیسک ٹاپ اور ای میل کے ذریعے فشنگ اور میلویئر حملوں پر ہائی لیول ایڈوائزری جاری کی ہے۔ حساس معلومات سنبھالنے والے افسران کو ونڈوز پر واٹس ایپ ویب اور ڈیسک ٹاپ استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

Photo: security, protection, antivirus, software
Photo: security, protection, antivirus, software تصویر: pixelcreatures / Pixabay
اہم نکات
  • نیشنل سرٹ نے خطرے کی سطح ہائی قرار دی
  • حملہ آور سرکاری افسران اور محکموں کا روپ دھار کر مضر فائلیں بھیجتے ہیں
  • حساس ڈیٹا والے افسران ونڈوز پر واٹس ایپ ویب اور ڈیسک ٹاپ سے گریز کریں
  • یہ واٹس ایپ پر ملک گیر پابندی نہیں
ہائیخطرے کی سطح

پاکستان کی نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نے ہائی لیول سائبر سکیورٹی ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں واٹس ایپ ویب، واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ اور ای میل کے ذریعے ہونے والے ہدفی فشنگ اور میلویئر حملوں سے خبردار کیا گیا ہے۔ یہ حملے ونڈوز سسٹمز کو نشانہ بناتے ہیں۔

ایڈوائزری کے مطابق سرکاری افسران، ریگولیٹرز اور حساس معلومات سنبھالنے والے افراد بنیادی ہدف ہیں۔ حملہ آور سرکاری محکموں، افسران اور قابلِ اعتماد رابطوں کا روپ دھارتے ہیں اور اکثر سرکاری دستاویز کے نام سے مضر فائلیں بھیجتے ہیں۔ ایسی فائل کھولنے سے ونڈوز کمپیوٹر متاثر ہو سکتا ہے۔

نیشنل سرٹ کے مطابق سسٹم متاثر ہونے کی صورت میں ڈیوائس کا ریموٹ کنٹرول، پاس ورڈز کی چوری اور خفیہ ڈیٹا کی چوری کا خطرہ ہے۔ ٹیک جوس کے مطابق ادارے نے مشتبہ علامات میں غیر متوقع پیغامات، غیر معمولی اٹیچمنٹس، نامعلوم لنکڈ ڈیوائسز اور مشکوک ڈیٹا ٹرانسفر کا ذکر کیا ہے، تاہم حملہ آوروں کے ڈومینز یا فائل ہیش تاحال جاری نہیں کیے گئے۔

ایڈوائزری میں سیشن ہائی جیکنگ کے خطرے کا بھی ذکر ہے۔ واٹس ایپ ویب سیشن کمپیوٹر کو فون پر لاگ اِن اکاؤنٹ استعمال کرنے دیتا ہے، اور اگر حملہ آور اسے قابو کر لے تو صارف کا روپ دھار سکتا ہے۔ اسی لیے جانے پہچانے نمبر سے آنے والا غیر متوقع پیغام یا فائل بھی نشانہ بنائے جانے کی علامت ہو سکتی ہے، اور لنکڈ ڈیوائسز میں کوئی انجان ڈیوائس غیر مجاز رسائی ظاہر کر سکتی ہے۔

احتیاطی تدبیر کے طور پر حساس معلومات رکھنے والے افسران کو ونڈوز پر واٹس ایپ ویب اور ڈیسک ٹاپ استعمال نہ کرنے اور واٹس ایپ پر موصول فائلیں سرکاری ونڈوز کمپیوٹرز پر منتقل نہ کرنے کا کہا گیا ہے۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق یہ واٹس ایپ پر ملک گیر پابندی نہیں ہے۔

تمام صارفین کو مشورہ ہے کہ مشکوک واٹس ایپ ویب سیشن فوراً ختم کریں، غیر تصدیق شدہ لنکس اور فائلیں نہ کھولیں اور کسی دوسرے ذریعے سے تصدیق کریں۔ پاس ورڈ، ون ٹائم پاس ورڈ اور تصدیقی کوڈ کسی کو نہ بتائیں۔ ونڈوز، براؤزرز اور دیگر سافٹ ویئر اپ ڈیٹ رکھیں اور ٹو فیکٹر اور واٹس ایپ ٹو اسٹیپ ویریفکیشن آن کریں۔ سیٹنگز میں لنکڈ ڈیوائسز دیکھ کر نامعلوم ڈیوائس ہٹائی جا سکتی ہے۔

کمپرومائز کا شبہ ہو تو متاثرہ ڈیوائس کو فوراً انٹرنیٹ اور مقامی نیٹ ورک سے الگ کر دیا جائے۔ مشکوک پیغامات، اٹیچمنٹس اور سسٹم لاگز بطور ثبوت محفوظ رکھے جائیں، انہیں دوبارہ نہ کھولا جائے اور واقعے کی اطلاع سکیورٹی ٹیم کو دی جائے۔ نیشنل سرٹ نے سرکاری محکموں اور فوکل پرسنز کو یہ انتباہ اپنے عملے تک پہنچانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان میں سرکاری افسران اور حساس معلومات سنبھالنے والے افراد بنیادی ہدف ہیں، جبکہ عام واٹس ایپ صارفین کو بھی لنکڈ ڈیوائسز چیک کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

نیشنل سرٹواٹس ایپسائبر سکیورٹی

اس خبر پر مزید