ابھی ابھی
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے: گورنر کے پی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے سکیورٹی کے لیے فنڈز اور انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔

ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے: گورنر کے پی
تصویر: NehaArifKhan / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • گورنر کنڈی: آئین نہ ماننے اور ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے
  • صوبائی حکومت نے سکیورٹی کے لیے 160 ارب روپے مانگے جس کی وفاق نے تائید کی
  • سیکریٹری داخلہ کے مطابق اس سال پولیس اور سی ٹی ڈی کو 70 ارب روپے دیے جائیں گے
  • صوبے میں دہشت گردوں کے مقدمات کے لیے فیس لیس عدالتیں بنیں گی
160 ارب روپےخیبرپختونخوا کی سکیورٹی فنڈز کی demand
70 ارب روپےاس سال پولیس اور سی ٹی ڈی کے لیے فنڈز

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ریاست، آئین اور قانون کو نہ ماننے اور ہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق وہ صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دے رہے تھے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق گورنر نے کہا: "ریاست کے خلاف جنگ کرنے والوں سے جنگ ہوگی"۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کو جیتنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ شکست ہماری ڈکشنری میں نہیں۔

گورنر نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی نافذ ہے۔ امن کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں ضروری سمجھی جاتی ہیں۔ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جائے گا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور میں وزیراعظم اور سینئر حکام کی موجودگی میں اپیکس کمیٹی کا بڑا اجلاس ہوا۔ خیبرپختونخوا حکومت نے سکیورٹی ضروریات کے لیے 160 ارب روپے مانگے جس کی وفاقی حکومت نے تائید کی۔ سکیورٹی اور ترقیاتی امور پر اسلام آباد میں وفاق کے ساتھ فالو اپ اجلاس بھی ہوئے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ اس سال پولیس اور سی ٹی ڈی کو 70 ارب روپے دیے جائیں گے۔ دہشت گردوں کے مقدمات کے لیے صوبے میں فیس لیس عدالتیں قائم کی جائیں گی۔

کنڈی نے کہا کہ پولیس کو نیا اسلحہ اور گولہ بارود دیا جائے گا، جبکہ شہدا پیکیج اور تنخواہیں بہتر کی جائیں گی۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ ضم شدہ اضلاع میں اب تک کوئی پولیس لائن نہیں بنی۔

گورنر کے مطابق افغان سرزمین بھارت کو پاکستان کے خلاف سہولت دینے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق انہوں نے پشاور پر قبضے جیسے افغان حکام کے بیانات اور ڈرون کی آمد پر ماضی کی خاموشی کو افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنا صوبے کی ترجیح ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

خیبرپختونخوا کی سکیورٹی پالیسی وہاں کے رہائشیوں اور مسافروں کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سیکریٹری داخلہ کے مطابق اس سال پولیس اور انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ کو 70 ارب روپے دیے جائیں گے، جس کا تعلق اضلاع میں پولیسنگ سے ہے۔ فیس لیس عدالتوں اور انٹیلی جنس بنیاد پر مزید کارروائیوں سے دہشت گردی کے مقدمات کی نوعیت بدل سکتی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

خیبرپختونخواسکیورٹیدہشت گردی

اس خبر پر مزید