ابھی ابھیآسان ٹیکس اسکیم میں رجسٹر نہ ہونے والے دکانداروں پر جرمانوں کا منصوبہپشاور ہائی کورٹ نے سہیل آفریدی کی حراست کا کیس بڑے بینچ کے لیے چیف جسٹس کو بھیج دیاگوہر: عمران خان نے کے پی حکومت کے خاتمے کو خوش آئند نہیں کہا
دنیا4 ذرائع سے تصدیق شدہ

ٹرمپ: ایران میں امریکا کے پاس ابھی ایک دو اہداف باقی ہیں

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا کہ امریکا ایران کی بیشتر فوجی طاقت ختم کر چکا ہے مگر ایک دو اہداف سے نمٹنا باقی ہے۔ ان کے مطابق جنگ ختم کرنے کے مذاکرات ٹھیک چل رہے ہیں، جبکہ تہران براہ راست بات چیت کے لیے تیار نہیں۔

Photo: f-18, super, hornet, aircraft carrier
Photo: f-18, super, hornet, aircraft carrier تصویر: 12019 / Pixabay
اہم نکات
  • ٹرمپ نے مشتبہ جوہری مقام پکیکس ماؤنٹین کو باقی ہدف قرار دیا، ایران وہاں جوہری سرگرمی سے انکار کرتا ہے۔
  • قطر اور پاکستان کی ثالثی کے باوجود ایران نے فوری براہ راست مذاکرات مسترد کر دیے۔
  • ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کمانڈروں کو اہداف کی فہرست اپ ڈیٹ کرنے کا حکم دیا۔
  • وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق نئے حملوں کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔
9,000اضافی امریکی فوجی
115 سے زیادہاگست تک حملے (اے پی)
26متاثرہ فوجی اڈے اور مقامات (اے پی)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا کہ امریکا ایران کی بیشتر فوج کو ناکارہ بنا چکا ہے، تاہم ایک دو اہداف سے نمٹنا ابھی باقی ہے، جن میں پکیکس ماؤنٹین نامی مشتبہ جوہری مقام بھی شامل ہے۔ وہ فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔

ٹرمپ نے کہا: "ہم ان کی جوہری صلاحیت ختم کر چکے ہیں۔ میرے خیال میں ایک دو مقامات سے نمٹنا باقی ہے، لیکن یہ کام ہم 10 منٹ میں کر سکتے ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔ پکیکس ماؤنٹین کے بارے میں انہوں نے کہا: "آپ شاید پکیکس ماؤنٹین کو دیکھ سکتے ہیں، اور اس سے نمٹنا ہوگا۔ ہم یہ سب بہت جلد کر سکتے ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس مقام پر کوئی جوہری کام نہیں ہوتا۔

ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے مذاکرات ٹھیک چل رہے ہیں، مگر ایران زیادہ قابل اعتماد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا جارحانہ کارروائی میں جلدی میں نہیں۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد، جو آئندہ ہفتے کے آغاز میں ہیں، وہ نئی فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران پر نئے حملوں کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا: "اگر کوئی سفارتی حل نکلتا ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہوں گے" (انگریزی سے ترجمہ)۔ امریکا مشرق وسطیٰ میں 9,000 مزید فوجی اور تیسرا طیارہ بردار جہاز بھیج رہا ہے۔

ایران کی جانب سے سکیورٹی چیف محسن رضائی نے کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خط کا لہجہ مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات بحال کرنے کی واشنگٹن کی تازہ کوشش کا خیر مقدم کیا۔ تہران نے کہا کہ وہ امریکی حکام سے براہ راست مذاکرات کے لیے ابھی تیار نہیں، اور قطر اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود فوری براہ راست بات چیت مسترد کر دی ہے۔

سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتے کو امریکا اور اسرائیل کو نئے حملوں سے خبردار کیا۔ انہوں نے کمانڈروں کو حکم دیا کہ اہداف کی فہرست میں امریکی صیہونی دشمن کے ہر طرح کے مادی اور غیر مادی اثاثے شامل کیے جائیں۔ یہ خامنہ ای اور اعلیٰ فوجی قیادت کی پہلی رپورٹ شدہ ملاقات تھی۔ مارچ میں منصب سنبھالنے سے پہلے سے وہ عوام کے سامنے نہیں آئے، جب ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اسرائیلی حملوں میں مارے گئے تھے۔ ایران پہلے خبردار کر چکا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں سمندر کے نیچے بچھی کیبلیں کاٹنے پر غور کر سکتا ہے۔

اسرائیل میں منگل کو عام انتخابات ہوئے اور نئی حکومت ابھی نہیں بنی۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ایرانی حکومت گرانے کے تاریخی اور یکتا موقع کی بات کر چکے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے تجزیے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں دو درجن سے زائد امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں میں پہلے ابتدائی انتباہی نظام کو نشانہ بنایا گیا، پھر طیاروں اور عمارتوں کو۔ تجزیے میں اربوں ڈالر کے سازوسامان کا نقصان سامنے آیا۔ اگست تک ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے دعوے والے 115 سے زیادہ ڈرون یا میزائل حملوں سے 26 فوجی اڈوں اور امریکی سازوسامان والے دیگر مقامات پر ڈھانچے تباہ یا متاثر ہوئے۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان ثالثوں میں شامل ہے، جبکہ جنگ کا اثر خلیجی تیل کی قیمتوں، پاکستان میں ایندھن کے اخراجات اور خلیج میں پاکستانی کارکنوں کی حفاظت پر پڑتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایرانٹرمپمشرق وسطیٰ

اس خبر پر مزید