ترسیلات زر کی لاگت میں 2 سے 3 فیصد کمی سے سالانہ ایک ارب ڈالر کا اضافہ ممکن: وزیر مملکت
وزیر مملکت بلال بن ثاقب کے مطابق ترسیلات زر کی لاگت میں دو سے تین فیصد کمی سے سالانہ ایک ارب ڈالر اضافی آ سکتے ہیں۔ پی وارا اور اسٹیٹ بینک لاگت کم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- بلال بن ثاقب کے مطابق لاگت میں 2 سے 3 فیصد کمی سے ایک ارب ڈالر اضافی آ سکتے ہیں۔
- پی وارا اور اسٹیٹ بینک کا مشترکہ ورکنگ گروپ لاگت کم کرنے پر کام کر رہا ہے۔
- خلیجی ممالک سے ترسیلات کا پائلٹ منصوبہ زیر غور ہے۔
وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پی وارا) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ ترسیلات زر بھیجنے کی لاگت کم کرنے سے ملک میں مالی آمد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایک سرکاری بیان میں کہی۔
ڈیلی ٹائمز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ لین دین کی لاگت میں صرف دو سے تین فیصد کمی سے ملکی معیشت میں ہر سال مزید ایک ارب ڈالر آ سکتے ہیں۔ ڈیلی پاکستان اردو نے بھی یہی اعداد و شمار دیے۔
بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ وفاقی حکام سرحد پار ادائیگی کے نظام کو جدید بنانے پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ سمندر پار کارکنوں سے زیادہ رقوم حاصل ہوں۔
بلال بن ثاقب کے مطابق پی وارا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان مشترکہ ورکنگ گروپ کے ذریعے ترسیلات کے اخراجات کم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ ڈیلی پاکستان اردو نے یہ بات جیو نیوز کے حوالے سے بتائی۔
ریگولیٹرز خلیجی ممالک سے ترسیلات کے راستوں کے لیے ایک پائلٹ منصوبے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق اس کا مقصد ڈیجیٹل سیٹلمنٹ نظام متعارف کرانا ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بھیجنے کی فیس کم ہو۔
وزیر مملکت نے کہا کہ تجارتی بینکوں کو مشترکہ مالیاتی ڈھانچے، کسٹڈی سروسز اور سائبر سیکیورٹی میں تعاون کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ بینک اور ریگولیٹرز ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے تحفظ کے لیے سائبر سیکیورٹی مضبوط کریں۔
ڈیلی ٹائمز کے مطابق حکام مالی لین دین اور صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے لازمی سیکیورٹی معیار بنا رہے ہیں، جبکہ بینکوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سائبر دفاعی آلات میں سرمایہ کاری کریں۔
مجوزہ اصلاحات سے توقع ہے کہ سمندر پار پاکستانی غیر رسمی ذرائع کے بجائے سرکاری بینکاری اور ڈیجیٹل راستے استعمال کریں گے۔ حکام ملک بھر میں جدید ماڈل پھیلانے سے پہلے خلیجی پائلٹ کی قریبی نگرانی کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
سمندر پار پاکستانی ہر بار رقم بھیجتے وقت یہ فیس ادا کرتے ہیں، اس لیے کم لاگت اور نئے ڈیجیٹل راستے ان پر براہ راست اثر ڈالیں گے۔ ترسیلات ملک کے زرمبادلہ ذخائر کا بنیادی ذریعہ بھی ہیں۔



