خلیج میں قطری ایل این جی ٹینکر المیدا نامعلوم اشیا کی زد میں
قطر کا مائع قدرتی گیس بردار ٹینکر المیدا جمعے کی شام خلیج میں نامعلوم اشیا کا نشانہ بنا۔ آپریٹر کے مطابق عملہ محفوظ ہے اور جہاز بدستور چل رہا ہے۔

- قطری ایل این جی جہاز المیدا 30 اکتوبر جمعے کی شام خلیج میں نشانہ بنا۔
- کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں۔
- جہاز محفوظ اور فعال ہے، اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
الجزیرہ اور گلف نیوز کی رپورٹس کے مطابق قطر کا مائع قدرتی گیس بردار ٹینکر المیدا جمعے 30 اکتوبر کی شام خلیج میں سفر کے دوران نامعلوم اشیا کا نشانہ بنا۔
یہ جہاز قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی کی ملکیت ہے، جو ناکیلات کے نام سے جانی جاتی ہے۔ کمپنی نے اتوار کو بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا اور ماحولیاتی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں۔
ناکیلات کے مطابق جہاز محفوظ حالت میں ہے اور کام کر رہا ہے، جبکہ واقعے کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ وہ جہاز، اس کے عملے اور خطے کے بحری سلامتی کے حکام سے براہ راست رابطے میں ہے۔
عرب نیوز نے سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ قطر کے امیر نے کہا کہ خلیج کی سلامتی اور خودمختاری پر سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔ رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملے کا ذمہ دار کون ہے۔
یہ واقعہ ایران سے جڑی جنگ کے دوران پیش آیا ہے۔ عالمی بحری تنظیم اور برطانیہ کے بحری تجارتی آپریشنز کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے 120 سے زائد تجارتی جہاز نشانہ بن چکے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق ایران نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں آبنائے ہرمز بند کر دی تھی اور خبردار کیا ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر گزرنے والے جہاز تباہ کیے جا سکتے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ جہازوں کو آبنائے سے گزرنے کے لیے اس کی اجازت لینا ہوگی، جبکہ امریکا نے جواب میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
جولائی میں امریکا کی جانب سے ایران کی جنوبی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے بعد جہاز رانی پر حملے بڑھ گئے ہیں۔ کم از کم 29 جہازوں کے نشانہ بننے کے ساتھ اکتوبر جنگ کا بدترین مہینہ رہا، جبکہ مارچ میں 20 حملے ریکارڈ ہوئے تھے۔
گلف نیوز کے مطابق قطر، جو تنازع میں ثالثی کر رہا ہے، نے امریکا اور ایران کے مذاکرات بحال کرانے کی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
قطر پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے والا اہم ملک ہے، اس لیے اس کے گیس ٹینکروں پر حملے سردیوں کی سپلائی کے حوالے سے تشویش بڑھاتے ہیں۔



