ابھی ابھیآسان ٹیکس اسکیم میں رجسٹر نہ ہونے والے دکانداروں پر جرمانوں کا منصوبہپشاور ہائی کورٹ نے سہیل آفریدی کی حراست کا کیس بڑے بینچ کے لیے چیف جسٹس کو بھیج دیاگوہر: عمران خان نے کے پی حکومت کے خاتمے کو خوش آئند نہیں کہا
دنیا4 ذرائع سے تصدیق شدہ

خلیج میں قطری ایل این جی ٹینکر المیدا نامعلوم اشیا کی زد میں

قطر کا مائع قدرتی گیس بردار ٹینکر المیدا جمعے کی شام خلیج میں نامعلوم اشیا کا نشانہ بنا۔ آپریٹر کے مطابق عملہ محفوظ ہے اور جہاز بدستور چل رہا ہے۔

Photo: tanker, ship, oil tanker, storage tank
Photo: tanker, ship, oil tanker, storage tank تصویر: TheoRivierenlaan / Pixabay
اہم نکات
  • قطری ایل این جی جہاز المیدا 30 اکتوبر جمعے کی شام خلیج میں نشانہ بنا۔
  • کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں۔
  • جہاز محفوظ اور فعال ہے، اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
120 سے زائدجنگ کے آغاز سے نشانہ بننے والے تجارتی جہاز
کم از کم 29اکتوبر میں نشانہ بننے والے جہاز
20مارچ میں ریکارڈ حملے

الجزیرہ اور گلف نیوز کی رپورٹس کے مطابق قطر کا مائع قدرتی گیس بردار ٹینکر المیدا جمعے 30 اکتوبر کی شام خلیج میں سفر کے دوران نامعلوم اشیا کا نشانہ بنا۔

یہ جہاز قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی کی ملکیت ہے، جو ناکیلات کے نام سے جانی جاتی ہے۔ کمپنی نے اتوار کو بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا اور ماحولیاتی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں۔

ناکیلات کے مطابق جہاز محفوظ حالت میں ہے اور کام کر رہا ہے، جبکہ واقعے کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ وہ جہاز، اس کے عملے اور خطے کے بحری سلامتی کے حکام سے براہ راست رابطے میں ہے۔

عرب نیوز نے سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ قطر کے امیر نے کہا کہ خلیج کی سلامتی اور خودمختاری پر سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔ رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملے کا ذمہ دار کون ہے۔

یہ واقعہ ایران سے جڑی جنگ کے دوران پیش آیا ہے۔ عالمی بحری تنظیم اور برطانیہ کے بحری تجارتی آپریشنز کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے 120 سے زائد تجارتی جہاز نشانہ بن چکے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق ایران نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں آبنائے ہرمز بند کر دی تھی اور خبردار کیا ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر گزرنے والے جہاز تباہ کیے جا سکتے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ جہازوں کو آبنائے سے گزرنے کے لیے اس کی اجازت لینا ہوگی، جبکہ امریکا نے جواب میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

جولائی میں امریکا کی جانب سے ایران کی جنوبی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے بعد جہاز رانی پر حملے بڑھ گئے ہیں۔ کم از کم 29 جہازوں کے نشانہ بننے کے ساتھ اکتوبر جنگ کا بدترین مہینہ رہا، جبکہ مارچ میں 20 حملے ریکارڈ ہوئے تھے۔

گلف نیوز کے مطابق قطر، جو تنازع میں ثالثی کر رہا ہے، نے امریکا اور ایران کے مذاکرات بحال کرانے کی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

قطر پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے والا اہم ملک ہے، اس لیے اس کے گیس ٹینکروں پر حملے سردیوں کی سپلائی کے حوالے سے تشویش بڑھاتے ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

قطرایل این جیخلیج

اس خبر پر مزید