انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شرکت کے لیے اپوزیشن کو دعوت
حکومت اور پیپلز پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کو انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے مشاورت کے بعد جواب دینے کا کہا ہے۔

- شیری رحمان کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے وفد نے اپوزیشن کو کمیٹی میں شمولیت کی دعوت دی
- اپوزیشن رہنماؤں نے مشاورت کے بعد جواب دینے کا کہا
- قومی اسمبلی کمیٹی کی تشکیل منظور کر چکی ہے، ارکان کے نام طے ہونا باقی ہیں
اے پی پی، 24 نیوز اور جیو نیوز کے مطابق جمعہ 30 اکتوبر کو پیپلز پارٹی کے وفد نے سینیٹر شیری رحمان کی قیادت میں اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی اور انہیں انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت کی دعوت دی۔
رپورٹس کے مطابق وفد نے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر یہ اقدام کیا۔ وفد سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کے چیمبر گیا اور ان کے ساتھ محمود خان اچکزئی سے بھی ملاقات کی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق شیری رحمان نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے ان کی بات جذبہ خیر سگالی سے سنی اور کہا کہ ہم مشاورت کر کے آپ کو جواب دیں گے۔ جیو نیوز نے اپنی خبر کی سرخی میں لکھا کہ اپوزیشن نے کمیٹی میں شمولیت پر آمادگی کا عندیہ دیا ہے۔
اس سے قبل 29 اکتوبر کو روزنامہ جنگ اور ڈیلی پاکستان نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اگلے انتخابات شفاف بنانے کے لیے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر باضابطہ مذاکرات کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اپوزیشن کو کمیٹی میں شامل کیا جائے اور اس سے نام مانگے جائیں۔ اس منصوبے کے تحت کمیٹی 20 ارکان پر مشتمل ہوگی جن میں 5 اپوزیشن سے ہوں گے، اور اسپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن کو شمولیت کا خط لکھیں گے۔
ایکسپریس نیوز نے کمیٹی کا حجم مختلف بتایا۔ وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق قومی اسمبلی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دے چکی ہے، جو 30 ارکان پر مشتمل ہوگی: 20 قومی اسمبلی اور 10 سینیٹ سے۔ نشستیں ایوان میں جماعتوں کی عددی طاقت کے مطابق تقسیم ہوں گی۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کمیٹی کا مقصد انتخابی نظام میں بہتری، شفافیت اور اصلاحات کے لیے پارلیمانی سطح پر مشاورت اور اتفاق رائے کو فروغ دینا ہے۔ اسپیکر جلد باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے، تاہم ارکان کے نام طے ہونا باقی ہیں۔
ایکسپریس نیوز نے یہ بھی بتایا کہ تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں تحریک پیش ہونے پر اس کی مخالفت نہیں کی تھی۔
یہ کیوں اہم ہے
انتخابی اصلاحات سے طے ہوتا ہے کہ آئندہ انتخابات پاکستان بھر کے ووٹروں کے لیے کتنے منصفانہ ہوں گے۔ اپوزیشن کی شمولیت سے ان اصلاحات کو کتنی سیاسی حمایت ملتی ہے، اس پر اثر پڑے گا۔



