ابھی ابھیآسان ٹیکس اسکیم میں رجسٹر نہ ہونے والے دکانداروں پر جرمانوں کا منصوبہپشاور ہائی کورٹ نے سہیل آفریدی کی حراست کا کیس بڑے بینچ کے لیے چیف جسٹس کو بھیج دیاگوہر: عمران خان نے کے پی حکومت کے خاتمے کو خوش آئند نہیں کہا
ٹیکنالوجی22 ذرائع سے تصدیق شدہ

بائنانس کا 6.3 ارب ڈالر کی چوری کا انکشاف، کرپٹو کی تاریخ کی سب سے بڑی ہیکنگ

بائنانس نے بتایا ہے کہ اس کے پلیٹ فارم سے تقریباً 6.3 ارب ڈالر کے کرپٹو اثاثے چوری ہوئے، جو اب تک کی سب سے بڑی کرپٹو چوری ہے۔ ایکسچینج کا کہنا ہے کہ صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں اور تمام نقصان وہ خود پورا کرے گا۔

Photo: bitcoin, cryptocurrency, digital, money
Photo: bitcoin, cryptocurrency, digital, money تصویر: MichaelWuensch / Pixabay
اہم نکات
  • بائنانس کے مطابق 6.3 ارب ڈالر کا کرپٹو چوری ہوا، صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں اور نقصان کمپنی پورا کرے گی۔
  • بائنانس اور شراکت داروں نے رپورٹس کے مطابق تقریباً 2.7 سے 3 ارب ڈالر منجمد کر دیے۔
  • TRM Labs اور Chainalysis کے مطابق حملے کے پیچھے شمالی کوریا کا گروپ TraderTraitor ہو سکتا ہے۔
6.3 ارب ڈالرچوری کی رقم
6.34 ارب ڈالربائنانس کے مختص کردہ فنڈز
تقریباً 3 ارب ڈالراب تک منجمد (بائنانس، دی ورج کے مطابق)
1.46 ارب ڈالرسابقہ ریکارڈ (بائی بٹ)

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے پلیٹ فارم سے تقریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کا کرپٹو چوری ہوا ہے۔ دی ورج کے مطابق یہ کرپٹو کی تاریخ کی سب سے بڑی ہیکنگ ہے اور گزشتہ سال بائی بٹ سے چوری ہونے والے 1.46 ارب ڈالر کے ریکارڈ سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔

بائنانس نے ایکس پر اپ ڈیٹس میں کہا کہ صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں اور تمام نقصان وہ خود پورا کرے گی۔ کمپنی کے مطابق اس نے واقعے کے لیے کمپنی کے 6.34 ارب ڈالر سے زائد مختص کیے ہیں، جن میں سے 5 ارب ڈالر انہی ٹوکنز کی شکل میں ہیں جو متاثر ہوئے۔ دی ورج کے مطابق آخری تخمینے پر بائنانس کا ہنگامی ریزرو فنڈ تقریباً 1.3 ارب ڈالر تھا۔

TRM Labs کے مطابق زیادہ تر چوری 29 اکتوبر کو تقریباً 20 منٹ میں ہوئی۔ ایتھریم، بٹ کوائن، ٹرون اور سولانا سمیت کم از کم دس بلاک چینز کے والٹس خالی کیے گئے اور رقم ایک ہی حملہ آور کے کنٹرول والے ایڈریسز پر بھیجی گئی۔ ادارے کے مطابق تیاری کم از کم 36 گھنٹے پہلے ایک حملہ آور والٹ سے ٹیسٹ نکالنے کی صورت میں شروع ہو چکی تھی۔ Bitquery نے بتایا کہ نکلوانے کا نظام تقریباً چار گھنٹے سے کم وقت میں 17 ہاٹ والٹس سے 6.3 ارب ڈالر کی منظوری دے بیٹھا۔

بائنانس کے مطابق ابتدائی تحقیق میں ایک ڈیوآپس انجینیئر کا ہیک شدہ لیپ ٹاپ سامنے آیا، جس کے ذریعے حملہ آور سروس کنٹینر تک پہنچا اور غیر مجاز رقوم نکلوانے کی درخواستیں بھیجیں۔ بعد میں کمپنی نے کہا کہ تحقیقات میں خلاف ورزی کے مزید مقامات سامنے آئے ہیں۔ شریک سی ای او رچرڈ تینگ نے کہا کہ حملہ آور نے صرف ایک انجینیئر کی اجازتیں استعمال نہیں کیں اور یہ ایک کلک کا عمل نہیں تھا بلکہ زیادہ پیچیدہ طریقہ کار تھا۔ ان کے مطابق کسی والٹ کی پرائیویٹ کی لیک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

ڈپازٹ اور رقم نکالنے کی سہولت معطل کر دی گئی۔ بائنانس اور دیگر کمپنیوں نے چوری شدہ رقم کا کچھ حصہ منجمد کیا۔ ایلیپٹک کے ٹام رابنسن کے مطابق تقریباً 2.8 ارب ڈالر، یعنی 44 فیصد، منجمد ہوئے، جن میں تقریباً سب اسٹیبل کوائنز ہیں۔ یورونیوز نے 2.7 ارب ڈالر کا ذکر کیا جبکہ بائنانس نے ایک موقع پر منجمد رقم 3 ارب ڈالر بتائی۔ رابنسن کے مطابق باقی 3.3 ارب ڈالر زیادہ تر بٹ کوائن، ایتھر اور ایکس آر پی میں ہیں جنہیں کوئی منجمد نہیں کر سکتا۔

TRM Labs اور Chainalysis کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں شمالی کوریا کا ہیکنگ گروپ TraderTraitor اس حملے کے پیچھے ہو سکتا ہے۔ TRM Labs نے کہا کہ وہ یہ نتیجہ بھرپور اعتماد کے ساتھ اخذ کر رہا ہے۔ ایلیپٹک نے ابھی تک گروپ کا نام نہیں لیا، تاہم رابنسن نے کہا کہ ان کے خیال میں شمالی کوریا کے ذمہ دار ہونے کا امکان ہے۔ ایف بی آئی نے بائی بٹ ہیک کا ذمہ دار اسی گروپ کو قرار دیا تھا۔

بائنانس کے مطابق وہ 45 گھنٹوں میں رقم نکلوانے کی سہولت بحال کرنے کی راہ پر ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے پر تفصیلی تکنیکی رپورٹ جاری کی جائے گی اور اصلاحی اقدامات کے بعد پروف آف ریزروز کی نئی رپورٹ شائع ہوگی۔ بائنانس کو 2019 میں بھی ایک سکیورٹی خلاف ورزی کا سامنا ہوا تھا جس میں 4 کروڑ ڈالر کے کرپٹو اثاثے چوری ہوئے تھے۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان میں کرپٹو صارفین اور ڈیجیٹل مالیات میں دلچسپی رکھنے والے قارئین اس سب سے بڑی کرپٹو چوری پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جو ایسی ایکسچینج میں ہوئی جو اپنے مطابق عالمی کرپٹو مارکیٹ کا تقریباً 35 فیصد کنٹرول کرتی ہے۔ بائنانس کے مطابق صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں اور وہ تمام نقصان پورا کرے گی۔

غلطی کی نشاندہی کریں

بائنانسکرپٹو کرنسیسائبر سکیورٹی

اس خبر پر مزید