گوگل نے اپنا نیا اے آئی ماڈل جیمینائی 4 کاربن متعارف کرا دیا
گوگل نے جیمینائی 4 کاربن کا اعلان کیا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ یہ آرٹیفیشل اینالیسس انٹیلیجنس انڈیکس v5.0 میں 59 اسکور کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ یہ جیمینائی 4 آرگون کے دو ہفتے بعد آیا ہے اور پہلے سائبر ڈیفنڈرز کے ایک گروپ کو دستیاب ہوگا۔

- گوگل کے مطابق جیمینائی 4 کاربن آرٹیفیشل اینالیسس انٹیلیجنس انڈیکس v5.0 میں 59 اسکور کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے
- یہ اس ہفتے پہلے سائبر ڈیفنڈرز کے ایک گروپ کو دستیاب ہوگا
- ابتدائی قیمت 2 ڈالر فی ملین ان پٹ ٹوکن اور 10 ڈالر فی ملین آؤٹ پٹ ٹوکن ہے
گوگل نے بدھ کو جیمینائی 4 کاربن کا اعلان کیا، جسے اس نے اپنا اگلا فرنٹیئر ماڈل قرار دیا ہے۔ یہ جیمینائی 4 آرگون کے لانچ کے دو ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ کاربن آرٹیفیشل اینالیسس انٹیلیجنس انڈیکس v5.0 میں 59 اسکور کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ کمپنی کے مطابق ماڈل 89 ایلو پوائنٹس کی چھلانگ کے ساتھ 1768 پر پہنچ کر ویب دیو ارینا میں چوتھے نمبر پر آ گیا۔ گوگل نے بتایا کہ صارفین کی رائے کی بنیاد پر فل اسٹیک ویب ڈیولپمنٹ، سائنسی کاموں اور ملٹی موڈل فہم میں بہتری کی گئی ہے۔
سائبر سکیورٹی ٹیسٹوں میں گوگل کے مطابق کاربن نے کمزوریاں تلاش کرنے کے لیے SEC-bench Pro پر 88.2 فیصد، ایکسپلائٹیشن کے لیے ExploitGym پر 54.8 فیصد اور پیچنگ کے لیے CWE-bench پر 71.0 فیصد اسکور کیا۔ کروم ٹیم نے بتایا کہ اعلیٰ معیار کے پیچ بنانے میں کاربن کی کارکردگی ایک اور لیب کے بڑے فرنٹیئر ماڈل سے 10 گنا سے زیادہ بہتر رہی، جبکہ ویز کے مطابق ویب پینیٹریشن ٹیسٹنگ کے بینچ مارکس میں کاربن سب سے آگے ہے۔
گوگل نے کہا کہ اندرونی بینچ مارکس میں محفوظ کوڈ بنانے کی کامیابی کی شرح آرگون کے مقابلے میں دوگنی سے زیادہ ہے۔ گوگل کے الفاظ میں: "On internal benchmarks, Carbon drives a strong uplift in generating secure code, and in live coding environments with our own teams it shows reduced misalignment and fabrication rates"۔ اندرونی لائیو کوڈنگ ماحول میں زیادہ شدت والے مس الائنمنٹ الرٹس تقریباً 80 فیصد کم ہوئے۔
کمپنی کے مطابق ٹرمنل بینچ 4.0 پر کامیاب دھوکا دہی 0.0 فیصد رہ گئی اور کوششیں 0.4 فیصد رہیں۔ اندرونی ٹیسٹنگ میں بے بنیاد دعوے آرگون کے مقابلے میں تقریباً آدھے رہ گئے، جبکہ کثیر مرحلہ کاموں میں ضرورت سے زیادہ دائرہ بڑھانے میں 26 فیصد اور کم خدمت میں 29 فیصد کمی آئی۔ گوگل کے مطابق ابہام کی صورت میں ماڈل متعلقہ ذرائع تلاش کرتا اور تضادات صارف کے سامنے لاتا ہے۔
گوگل نے بتایا کہ وہ ریلیز سے پہلے ماڈل کی جانچ کے لیے امریکی حکومت کے رضاکارانہ عمل میں شریک ہے۔ کاربن اس ہفتے پہلے سائبر ڈیفنڈرز کے ایک گروپ کو دستیاب ہوگا، پھر فیئر ونڈ پروگرام کے ذریعے مزید قابل اعتماد شراکت داروں کو۔ رائے لینے اور حفاظتی حدود بہتر بنانے کے بعد اسے ڈیولپرز، کاروباروں اور عام صارفین کے لیے جاری کیا جائے گا۔
ابتدائی قیمت آرگون جیسی ہے: 2 ڈالر فی ملین ان پٹ ٹوکن اور 10 ڈالر فی ملین آؤٹ پٹ ٹوکن، جبکہ کیشڈ ان پٹ ٹوکن پر 95 فیصد رعایت ہے۔ اناطولیہ ایجنسی کے مطابق معیاری قیمت بعد میں بڑھ کر 4 ڈالر اور 20 ڈالر فی ملین ٹوکن ہو جائے گی۔ کارکردگی کے تمام اعداد و شمار گوگل کے اپنے دعوے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان میں بہت سے لوگ کام، تعلیم اور فری لانسنگ کے لیے جیمینائی پر مبنی ٹولز استعمال کرتے ہیں، اس لیے نیا فرنٹیئر ماڈل ان پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔ گوگل کے مطابق سائبر ڈیفنڈرز کے بعد ڈیولپرز، کاروباروں اور صارفین کے لیے بھی اجرا کیا جائے گا۔



