ابھی ابھیحکومت کا پیٹرولیم لیوی ختم کرنے سے انکار، بعض شعبوں کو ایندھن میں رعایتامریکی وسط مدتی انتخابات 2026: کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ووٹروں کے ہاتھ میںپیٹرولیم قیمتوں میں مزید ریلیف کا عندیہ، ایل پی جی مارکیٹ مسابقت کے لیے کھلے گی
پاکستان5 ذرائع سے تصدیق شدہ

سی ڈی اے کا شاہدرہ ڈیم کا ٹینڈر جاری، 30 سال بعد اسلام آباد کو نیا آبی ذریعہ

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شاہدرہ ڈیم منصوبے کا ٹینڈر جاری کر دیا ہے۔ یہ تقریباً 30 سال بعد شہر کے نظامِ آبرسانی میں شامل ہونے والا پہلا نیا ذریعہ ہوگا۔

Photo: dam, hydroelectric power plant, mountain, alpine dam
Photo: dam, hydroelectric power plant, mountain, alpine dam تصویر: Camera-man / Pixabay
اہم نکات
  • سی ڈی اے نے شاہدرہ ڈیم کا ٹینڈر جاری کیا، تعمیر جلد شروع ہوگی
  • تقریباً 30 سال میں اسلام آباد کے نظام میں پہلا نیا ذریعہ
  • منصوبہ دو سال میں مکمل کرنے کا ہدف
دو سالتکمیل کی مدت
تقریباً 250 ملین گیلن یومیہاسلام آباد میں پانی کی طلب
تقریباً 70 ملین گیلن یومیہسی ڈی اے کی فراہمی
100منصوبہ بند ری چارج ویلز

ٹیک جوس کے مطابق کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے شاہدرہ ڈیم منصوبے کا ٹینڈر جاری کر دیا ہے، جو تقریباً 30 سال بعد اسلام آباد کے نظامِ آبرسانی میں پہلا نیا ذریعہ شامل کرے گا۔ اتھارٹی نے بدھ کو اعلان کیا کہ تعمیر جلد شروع ہوگی۔

سی ڈی اے کے چیئرمین سہیل اشرف نے کہا کہ منصوبے کے پی سی ون میں تکمیل کی مدت دو سال رکھی گئی ہے۔ ٹیک جوس کے مطابق اتھارٹی کا ہدف ڈیم 20 ماہ میں مکمل کرنا ہے۔ ڈیم شاہدرہ پکنک ایریا کے قریب بنایا جائے گا۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق منصوبے سے دارالحکومت کے نظام میں سطحی پانی کا نیا ذریعہ شامل ہوگا اور بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ رپورٹ کے مطابق منصوبہ وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی اور چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کے وژن کے تحت ہے، جبکہ اسلام آباد واٹر کے ڈائریکٹر جنرل سردار خان زمری نگرانی کر رہے ہیں۔

ڈیم سے حاصل ہونے والے پانی کی مقدار پر رپورٹس میں فرق ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ تقریباً 510 ملین گیلن یومیہ دے گا، جبکہ ٹیک جوس نے سی ڈی اے کی پریس ریلیز کے حوالے سے 5 سے 10 ملین گیلن یومیہ بتایا۔ دونوں کے مطابق یہ اندازہ حتمی ڈیزائن، تکنیکی جائزوں اور عملی انتظامات سے مشروط ہے۔

ٹیک جوس کے مطابق اسلام آباد میں پانی کی طلب تقریباً 250 ملین گیلن یومیہ ہے۔ سی ڈی اے خانپور ڈیم، سملی ڈیم اور ٹیوب ویلوں سے تقریباً 70 ملین گیلن یومیہ فراہم کرتا ہے، جو زیادہ تر شہری علاقوں کو جاتا ہے۔ دیہی آبادی زیادہ تر بورنگ اور ضلعی انتظامیہ کی چھوٹی اسکیموں پر انحصار کرتی ہے۔

سہیل اشرف نے بتایا کہ مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں چار چیک ڈیم بنائے جائیں گے، جن میں ڈی 12، شاہ اللہ دتہ اور سید پور کے قریب مقامات شامل ہیں۔ زیر زمین پانی کی سطح بڑھانے کے لیے 100 ری چارج ویلز کا منصوبہ بھی شروع ہونے والا ہے۔ چیک ڈیموں اور ری چارج ویلز کے ٹینڈر ابھی جاری نہیں ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں سالانہ تقریباً 1100 ملی میٹر بارش ہوتی ہے مگر زیادہ تر پانی نالوں میں بہہ جاتا ہے۔ سی ڈی اے ہر مون سون میں سملی ڈیم سے بڑی مقدار میں پانی چھوڑتا ہے، جبکہ راولپنڈی میں اضافی پانی ذخیرہ کرنے کا نظام نہ ہونے کے باعث راول ڈیم سے پانی چھوڑا جاتا ہے۔

سی ڈی اے پانی کی فراہمی، سیوریج اور نکاسی کے ماسٹر پلان پر جائیکا کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ سملی ڈیم کے catchment ایریا میں چنوٹ ڈیم اور خانپور ڈیم کے catchment ایریا میں ڈوتارا ڈیم بھی منصوبے میں شامل ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

اسلام آباد میں طلب تقریباً 250 ملین گیلن یومیہ ہے جبکہ سی ڈی اے تقریباً 70 ملین گیلن فراہم کرتا ہے، اس لیے نیا ذریعہ شہریوں کے لیے اہم ہے۔ یہ ڈیم تقریباً 30 سال میں نظام میں پہلا اضافہ ہوگا۔

غلطی کی نشاندہی کریں

اسلام آبادسی ڈی اےشاہدرہ ڈیم

اس خبر پر مزید