ابھی ابھیپاکستان کے چین کے ساتھ تعلیم کے 11 معاہدے، نوجوانوں کی مہارتوں پر زوریوکرین کے گاؤں کومیشووخا میں اسکول پر روسی حملہ، کم از کم 31 ہلاکپاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ پہلے فضا سے فضا میں مار کرنے والے فعاذ میزائل کا تجربہ
کاروبار2 ذرائع سے تصدیق شدہ

وزیر خزانہ: یورو بانڈ قرض کو ٹوکنائز کرنے کا جائزہ لیا جا رہا ہے

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت پاکستان کے موجودہ یورو بانڈ قرض کو ٹوکنائز کرنے کا جائزہ لے رہی ہے۔ وہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور لمز کے ڈیجیٹل اثاثوں اور بینکاری کے مستقبل پر مکالمے سے خطاب کر رہے تھے۔

Photo: network, globalization, earth, blockchain
Photo: network, globalization, earth, blockchain تصویر: geralt / Pixabay

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • وزارت خزانہ اور حکومت موجودہ یورو بانڈ قرض کو ٹوکنائز کرنے کا جائزہ لے رہی ہیں۔
  • بینک اپنے فنڈز یا صارفین کی رقوم سے ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری، تجارت یا انہیں رکھنے پر پابندیاں برقرار رکھیں گے۔
  • ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے تحت ریگولیٹری اتھارٹی لائسنسنگ اور نگرانی کرے گی۔
41.6 ارب ڈالرگزشتہ مالی سال کی ترسیلات زر
44 ارب ڈالر سے زائداس سال ممکنہ ترسیلات

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزارت خزانہ اور حکومت پاکستان کے موجودہ یورو بانڈ قرض کو ٹوکنائز کرنے کا جائزہ لے رہی ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون اور بزنس ریکارڈر کے مطابق انہوں نے یہ بات ڈیجیٹل اثاثوں اور بینکاری کے مستقبل پر مکالمے سے خطاب میں کہی۔

اس تقریب کا انعقاد پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے لمز کے اشتراک سے کیا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق اورنگزیب نے پیر کو ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔

اورنگزیب نے کہا کہ بینکوں کو ڈیجیٹل اثاثے ذمہ داری سے اپنانے چاہئیں، جبکہ بینکوں کے اپنے فنڈز یا صارفین کے ڈپازٹس سے ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری، تجارت یا انہیں رکھنے پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے قواعد پر عمل درآمد کی ذمہ داری بینکوں پر ہی رہے گی۔

انہوں نے کہا: "پاکستان کو مالی جدت کی ضرورت ہے، اور ڈیجیٹل اثاثوں کو وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی کا تکمیلی حصہ ہونا چاہیے۔" (انگریزی سے ترجمہ) ان کے مطابق جدت سے سستی ترسیلات زر، کاروباری ادائیگیوں میں تیزی، کاروباری افراد کو آسان فنانسنگ اور پیداواری سرمایہ کاری میں اضافہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے ساتھ ریگولیٹری تحفظات، مالی استحکام اور ادارہ جاتی نگرانی بھی ضروری ہے۔

پاکستان نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے ذریعے قانونی ڈھانچہ قائم کیا ہے۔ اس قانون کے تحت پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی ورچوئل اثاثوں کی خدمات فراہم کرنے والوں کو لائسنس دینے اور ان کی نگرانی کی ذمہ دار ہے۔ اورنگزیب نے کہا کہ اگلی ترجیح مؤثر نگرانی اور اداروں کے باہمی رابطے کے ذریعے عمل درآمد ہے۔

ان کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے لائسنس یافتہ اداروں کو بینکاری سہولیات دینے کا مشروط طریقہ کار متعارف کرایا ہے، جس میں مناسب جانچ پڑتال اور کلائنٹ فنڈز کی علیحدگی شرط ہے۔ این او سی رکھنے والے اداروں کے کھولے گئے اکاؤنٹس لائسنسنگ مکمل ہونے تک محدود مقصد کے لیے ہوں گے۔

اورنگزیب نے کہا کہ ٹوکنائزیشن سے ترسیلات کے ذرائع بہتر ہو سکتے ہیں، جن میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے جڑے لین دین بھی شامل ہیں۔ گزشتہ مالی سال پاکستان کو 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، اور ان کے مطابق پہلی سہ ماہی کے رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آمد 44 ارب ڈالر سے بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے اور برآمدات پر مبنی ترقی پر توجہ دے رہی ہے۔ ان کے مطابق بینکوں کو چھوٹے اور درمیانے کاروبار اور زراعت کے لیے فنانسنگ تک آسان رسائی دینا ہوگی۔

یہ کیوں اہم ہے

ترسیلات کے ذرائع اور ڈیجیٹل اثاثوں کے قواعد میں تبدیلی سے بیرون ملک پاکستانی، کاروبار اور بینک متاثر ہو سکتے ہیں۔ حکومت کے مطابق ایسے ذرائع لاگت کم کر کے مزید لوگوں کو رسمی معیشت میں لا سکتے ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

یورو بانڈورچوئل اثاثےبینکاری

اس خبر پر مزید