اسلام آباد اور راولپنڈی میں اسکول وین کے کرائے 40 فیصد تک بڑھ گئے
پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی میں اسکول وین اور نجی ٹرانسپورٹ مالکان نے ماہانہ کرائے 40 فیصد تک بڑھا دیے ہیں۔ والدین کے مطابق ماہانہ 2,000 سے 4,000 روپے اضافی مانگے جا رہے ہیں اور کوئی نگرانی نہیں۔

- جڑواں شہروں میں اسکول وین کے ماہانہ کرائے 40 فیصد تک بڑھ گئے۔
- والدین کے مطابق ماہانہ 2,000 سے 4,000 روپے اضافی مانگے جا رہے ہیں۔
- مالکان ایندھن، مرمت، ٹریفک جرمانوں اور ڈرائیوروں کی تنخواہ کا حوالہ دیتے ہیں؛ ایک مالک کے مطابق اضافہ صرف 1,500 روپے ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان، پرو پاکستانی اور ٹیک جوس کی رپورٹوں کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی میں اسکول وین اور نجی ٹرانسپورٹ مالکان نے ماہانہ کرائے 40 فیصد تک بڑھا دیے ہیں۔ اے پی پی نے اس اضافے کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی سے جوڑا ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ وین مالکان ماہانہ 2,000 سے 4,000 روپے اضافی مانگ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اضافہ یک طرفہ طور پر اور کسی ریگولیٹری نگرانی کے بغیر کیا گیا۔
ایک ماں سدرہ نے پرو پاکستانی کو بتایا کہ ان کے بچوں کی وین کے ڈرائیور نے ماہانہ کرایہ 6,000 سے بڑھا کر 8,000 روپے کر دیا۔ جی ٹین سے ایف سیون میں اسکول تک کا سفر تقریباً 10 منٹ کا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے 800 سی سی تک انجن والی گاڑیوں کے لیے پیٹرول سبسڈی کا اعلان کر رکھا ہے۔
رپورٹوں کے مطابق متاثرہ بچوں کے گھر اسکول سے صرف تین سے پانچ کلومیٹر دور ہیں۔ والدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیوں میں بھی پورا ٹرانسپورٹ کرایہ لیا جاتا ہے اور انہیں ان چارجز کو چیلنج کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
وین مالکان اضافے کی وجوہات میں پیٹرول اور سی این جی کی بڑھتی قیمتیں، گاڑی کی دیکھ بھال کے اخراجات، ٹریفک جرمانے اور ڈرائیوروں کی تنخواہیں بتاتے ہیں۔ ایک مالک نے کہا کہ ان اخراجات کے باعث پرانے کرایوں پر وین چلانا مشکل ہو گیا ہے۔
اسی مالک کے مطابق والدین مالکان کی آمدن کا اندازہ لگاتے وقت ایندھن، ڈرائیوروں کی ادائیگی اور اسکولوں کو دیے جانے والے کمیشن کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ کرایوں میں صرف 1,500 روپے اضافہ کیا گیا جو ان کے خیال میں درست ہے۔
والدین وین کے کرایوں پر بہتر نگرانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
اسلام آباد اور راولپنڈی کے اسکولی بچوں کے والدین کو ماہانہ ٹرانسپورٹ کے زیادہ اخراجات کا سامنا ہے، اور ان کے مطابق اضافے کو جانچنے والا کوئی ادارہ نہیں۔



