ابھی ابھیپنجاب کی کمیٹی نے قانونی اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تفصیلات طلب کرلیںشاہراہِ فیصل پر کسی جماعت کو جلسے کی اجازت نہیں ہوگی، شرجیل میمنابوظہبی میں 10 اور 11 نومبر کو امریکی ثالثی میں روس یوکرین مذاکرات
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

پنجاب اسمبلی میں تنازعات کے حل کی اتھارٹی کا آرڈیننس پیش

پنجاب اسمبلی میں پنجاب متبادل تنازعات حل آرڈیننس 2026 پیش کر کے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سپرد کر دیا گیا۔ اس کے تحت ثالثی، مصالحت اور باہمی مذاکرات کے ذریعے عدالت سے باہر تنازعات حل کرنے کی اتھارٹی بنے گی۔

Photo: vienna, sightseeing, building, room
Photo: vienna, sightseeing, building, room تصویر: tzevena / Pixabay
اہم نکات
  • آرڈیننس پنجاب اسمبلی میں پیش ہوا اور قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بھیج دیا گیا۔
  • اتھارٹی ثالثی، مصالحت اور باہمی مذاکرات سے تنازعات حل کرے گی۔
  • گورنر نے 6 اکتوبر کو 90 دن کیلئے آرڈیننس کی منظوری دی۔
90 دنآرڈیننس کی مدت
6 اکتوبرگورنر کی منظوری کی تاریخ
15 دنتحریری جواب کے بعد ریفرل
30 دن، بڑھا کر 60 دن تکتنازع حل کرنے کی مدت

پنجاب متبادل تنازعات حل آرڈیننس 2026 پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا گیا اور اسے اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سپرد کیا گیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق کمیٹی رپورٹ کے بعد بل ایوان سے منظور کرایا جائے گا اور پھر آرڈیننس قانون کی شکل اختیار کرے گا۔

آرڈیننس کے تحت عدالتی مقدمات کا بوجھ کم کرنے اور متبادل نظام کے ذریعے تنازعات حل کرنے کیلئے اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ تنازعات ثالثی، مصالحت اور باہمی مذاکرات سے حل ہوں گے۔ گورنر پنجاب نے 6 اکتوبر کو 90 دن کیلئے آرڈیننس کی منظوری دی تھی۔

منٹ مرر کے مطابق پنجاب متبادل تنازعات حل اتھارٹی (ADRA) ایک خودمختار ادارہ ہوگی جس کا ہیڈ کوارٹر لاہور میں ہوگا، اور آرڈیننس سے پنجاب متبادل تنازعات حل ایکٹ 2019 منسوخ ہو جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب اس کے چیئرپرسن ہوں گے جبکہ ڈائریکٹر جنرل اور دیگر ماہرین کی تقرری کی جائے گی۔ ماہرین کے پینل میں ریٹائرڈ جج، سابق سرکاری افسران اور دیوانی، فوجداری، ٹیکس اور کارپوریٹ امور کے ماہرین شامل ہوں گے۔

اتھارٹی تنازعات کے حل کے نظام کی نگرانی کرے گی، ثالثوں، مراکز اور تربیتی اداروں کی منظوری اور تجدید کرے گی، اور پورے پنجاب میں انہیں رجسٹر، لائسنس اور مانیٹر کرے گی۔ منظور شدہ ثالثوں اور مراکز کی فہرست لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو فراہم کی جائے گی۔ تنازعات کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے نامزد جج، منظور شدہ ثالث یا منظور شدہ مراکز کریں گے۔

زیر التوا مقدمات فریقین کی رضامندی سے اتھارٹی کو بھیجے جا سکیں گے۔ منٹ مرر کے مطابق عدالتیں شیڈول-I میں درج دیوانی مقدمات مدعا علیہ کا تحریری جواب جمع ہونے کے 15 دن کے اندر ADR کو بھیجنے کی پابند ہوں گی۔ تنازع 30 دن میں حل ہونا ضروری ہے، جو فریقین کی مشترکہ درخواست پر زیادہ سے زیادہ 60 دن تک بڑھ سکتا ہے۔

خاندانی تنازعات، بچوں کی تحویل و سرپرستی، وراثت، مشترکہ جائیداد کی تقسیم، تجارتی معاہدے، ہرجانہ، منقولہ جائیداد کی وصولی، پیشہ ورانہ غفلت، صارفین کی شکایات اور کاپی رائٹ کے معاملات اس دائرے میں آئیں گے۔ منٹ مرر کے مطابق ضابطہ فوجداری کی دفعہ 345 کے تحت قابل راضی نامہ جرائم بھی شامل ہوں گے۔

فریقین ذاتی طور پر، مجاز نمائندوں یا وکلاء کے ذریعے شریک ہو سکیں گے، جبکہ سمندر پار پاکستانی ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہو سکیں گے۔ خواتین سے متعلق تنازعات میں خاتون ثالثوں کو ترجیح دی جائے گی۔ فیس اور اخراجات فریقین باہمی رضامندی سے برداشت کریں گے اور کارروائی خفیہ رہے گی۔

تصفیے کے بعد ADRA نوٹیفکیشن جاری کرے گی تاکہ عدالت اس کے مطابق فیصلہ اور ڈگری جاری کر سکے۔ یہ ڈگری عدالتی ڈگری کے برابر قانونی حیثیت رکھے گی۔ منٹ مرر کے مطابق صوبائی حکومت کو توقع ہے کہ اس سے مقدمہ بازی کے اخراجات اور عدالتوں پر دباؤ کم ہوگا اور مقدمات کا بیک لاگ ختم ہوگا۔

یہ کیوں اہم ہے

پنجاب کے جن شہریوں کے خاندانی، جائیداد، تجارتی یا صارفین کے تنازعات ہیں، انہیں عدالت سے باہر تصفیے کا راستہ مل سکتا ہے، اور اتھارٹی ایسے تنازعات کے نمٹانے کا طریقہ بدل دے گی۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پنجابتنازعات کا حلعدالتیں

اس خبر پر مزید