ابھی ابھیجولائی تا اکتوبر سیمنٹ کی برآمدات 9.51 فیصد کم، ملکی فروخت میں اضافہآسان ٹیکس اسکیم میں رجسٹر نہ ہونے والے دکانداروں پر جرمانوں کا منصوبہپشاور ہائی کورٹ نے سہیل آفریدی کی حراست کا کیس بڑے بینچ کے لیے چیف جسٹس کو بھیج دیا
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

پشاور: دلہ زاک روڈ پر کھمبے سے ٹکرا کر ہلاکت، کھمبے ہٹانے کا مطالبہ

پشاور کے دلہ زاک روڈ کے درمیان بجلی کے کھمبے سے ٹکرا کر اتوار کو ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ پیسکو کے مطابق کھمبے منتقل کرنے کا کام جاری ہے اور باقی حصوں پر اسی ہفتے مکمل ہوگا۔

Photo: field, agriculture, grain field, landscape
Photo: field, agriculture, grain field, landscape تصویر: wal_172619 / Pixabay
اہم نکات
  • اتوار کو دلہ زاک روڈ پر کھمبے سے ٹکرا کر ایک شخص جاں بحق ہوا۔
  • شہریوں نے 72 گھنٹوں میں کھمبے سڑک کے کنارے منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
  • پیسکو کے مطابق تین میں سے ایک حصے میں کھمبے منتقل ہو چکے اور باقی دو پر اسی ہفتے کام مکمل ہوگا۔
72 گھنٹےکھمبے منتقل کرنے کے لیے شہریوں کی مہلت
3سڑک کے حصے
ستمبر 2026پیسکو کو ادائیگی ملی

منٹ مرر کی رپورٹ کے مطابق پشاور کے دلہ زاک روڈ کے درمیان کھڑے بجلی کے کھمبے سے ٹکرا کر اتوار کو ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ سڑک کو چوڑا کیے جانے کے باوجود کھمبے درمیان میں موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دلہ زاک روڈ شہر کی مصروف ترین دو رویہ سڑکوں میں سے ہے۔ اس پر تعلیمی ادارے، کالج اور جامعات ہونے کی وجہ سے ہزاروں طلبہ، رہائشی اور روزانہ سفر کرنے والے اسے استعمال کرتے ہیں۔

رہائشیوں کا کہنا ہے کہ برسوں میں ایسے ہی حادثات میں دیگر افراد زخمی یا ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق رات کو کم روشنی کی وجہ سے کھمبے نظر نہیں آتے اور خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مقامی شہریوں نے کہا: "سڑک چوڑی کر دی گئی مگر بجلی کے کھمبے اب بھی درمیان میں کھڑے ہیں۔ رات کو موٹر سائیکل سوار کو یہ ٹھیک سے نظر نہیں آتے اور وہ ان سے ٹکرا جاتا ہے۔ حکومتوں نے افتتاحی تختیاں تو لگا دیں، مگر ان موت کے جالوں کو کسی نے نہیں ہٹایا۔" (انگریزی سے ترجمہ)

منٹ مرر نے یہ بھی بتایا کہ رنگ روڈ اور فقیر آباد کے درمیان سڑک کا ایک حصہ نکاسی آب کے کام کے لیے کھودا گیا تھا اور کام ابھی ادھورا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیسکو اور محکمہ تعمیرات کھمبے ہٹانے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں، جبکہ ٹھیکیدار کی غیر موجودگی اور نگرانی نہ ہونے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

شہریوں نے شفاف تحقیقات اور گورنر خیبر پختونخوا، کمشنر پشاور اور چیف پیسکو سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دلہ زاک روڈ اور رنگ روڈ سروس روڈ کے کھمبے 72 گھنٹوں میں سڑک کے کنارے منتقل کیے جائیں اور تب تک ریفلیکٹرز اور وارننگ ٹیپ لگائی جائیں۔ رہائشیوں نے خبردار کیا کہ کارروائی نہ ہوئی تو وہ سڑک بند کر کے احتجاج کریں گے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ واپڈا حکام سے کہیں گے کہ سڑک کے درمیان سے کھمبے ہٹائے جائیں۔

پیسکو نے وضاحت جاری کی کہ کھمبوں کی منتقلی کا کام جاری ہے۔ اس کے مطابق متعلقہ محکمے کو رقم اور ڈیمانڈ نوٹس ادا کرنا تھے، اور اس نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کو ادائیگی کے لیے خط لکھا۔ پیسکو نے بتایا کہ ستمبر 2026 میں ادائیگی ملی اور اس کے فوراً بعد کام شروع کر دیا گیا۔

پیسکو کے مطابق دلہ زاک روڈ کے تین حصوں میں سے ایک پر کھمبے محفوظ مقام پر منتقل کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی دو حصوں پر کام اسی ہفتے مکمل کر لیا جائے گا۔

یہ کیوں اہم ہے

پشاور میں دلہ زاک روڈ استعمال کرنے والے مسافروں، طلبہ اور رہائشیوں کو، خصوصاً رات کے وقت، کھمبوں سے ٹکرانے کا خطرہ رہتا ہے۔ پیسکو کے مطابق باقی حصوں پر کام اسی ہفتے مکمل ہوگا۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پشاوردلہ زاک روڈپیسکو

اس خبر پر مزید