وزیر داخلہ کی نگرانی میں اسلام آباد میں کھنہ تھانے کی عمارت مسمار
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعہ کو اسلام آباد میں کھنہ تھانے کی عمارت گرانے کی نگرانی کی۔ عمارت اسلام آباد ایکسپریس وے کی گرین بیلٹ پر بنی تھی اور تجاوزات کے خلاف آپریشن کے تحت گرائی گئی۔

- محسن نقوی نے جمعہ کو کھنہ تھانے کی مسماری کی نگرانی کی۔
- عمارت ایکسپریس وے کی گرین بیلٹ پر بنی تھی۔
- تھانہ کرائے کی عمارت میں منتقل ہو چکا ہے اور نئی جگہ الاٹ کی گئی ہے۔
- محسن نقوی کے مطابق تجاوزات کے خلاف کارروائی بلا امتیاز جاری رہے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعہ کو اسلام آباد میں کھنہ تھانے کی عمارت گرانے کی نگرانی کی۔ یہ عمارت اسلام آباد ایکسپریس وے کے ساتھ گرین بیلٹ پر تعمیر کی گئی تھی۔
مسماری وفاقی دارالحکومت میں تجاوزات اور سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضے کے خلاف آپریشن کا حصہ تھی۔ چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس آپریشن میں شریک تھے، جبکہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر متعلقہ حکام بھی موقع پر موجود تھے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ہم گرین بیلٹ سے تجاوزات ختم کر رہے ہیں اور اسی سلسلے میں کھنہ تھانے کی عمارت کو گرا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مہم میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے سب سے پہلے گرین بیلٹ کی تجاوزات گرائی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تھانہ کرائے کی عمارت میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ تھانے کے لیے نئی جگہ قانونی طور پر الاٹ کی گئی ہے جہاں نئی عمارت تعمیر ہوگی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ کسی سرکاری یا نجی ادارے یا فرد کو سرکاری زمین پر قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والے محکموں کے قبضے میں موجود زمین بھی واگزار کرائی جا رہی ہے، اور مریٹ ہوٹل کے قریب ایف سی کیمپ آفس پہلے گرایا جا چکا ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی بلا امتیاز جاری رہے، اور کہا کہ حکومت سرکاری زمین پر قابض سرکاری محکموں، نجی اداروں اور افراد میں فرق نہیں کرے گی۔ انہوں نے وفاقی دارالحکومت سے تمام تجاوزات ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
محسن نقوی نے بتایا کہ اسلام آباد میں ریسکیو 1122 کے مزید پانچ مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے تمام تھانوں کی تزئین و آرائش کی جائے گی۔
حکومت کا مقصد دارالحکومت کو سبزے سے بھرپور اور تجاوزات سے پاک شہر بنانا ہے۔ 24NewsHD سے منسوب ایک اردو پوسٹ کے مطابق اب تک اسلام آباد میں 1300 ارب روپے مالیت کی سرکاری زمین واگزار کرائی جا چکی ہے؛ دیگر رپورٹس میں یہ رقم نہیں دی گئی۔
یہ کیوں اہم ہے
دارالحکومت میں تجاوزات کے خلاف مہم سے اسلام آباد کے رہائشی اور سرکاری عمارتیں، بشمول تھانے اور ایمرجنسی سروسز کے مراکز، متاثر ہوتے ہیں۔



