ایم کیو ایم کا نئے صوبوں کی تحریک کا اعلان، 29 نومبر کو قافلہ مارچ
ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ملک بھر میں نئے صوبوں کی تحریک کا اعلان کیا ہے۔ 29 نومبر کو شاہراہ فیصل کی جانب قافلے کی صورت میں مارچ ہوگا۔

- ایم کیو ایم پاکستان نے ملک بھر میں نئے صوبوں کے لیے تحریک چلانے کا اعلان کیا۔
- 29 نومبر کو شاہراہ فیصل کی جانب قافلہ مارچ ہوگا۔
- خالد مقبول صدیقی کے مطابق سب سے زیادہ ضرورت سندھ کے شہری علاقوں میں ہے۔
- فاروق ستار نے کہا انتظامی یونٹس زبان یا لسانیت پر نہیں بننے چاہئیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ 29 نومبر کو شاہراہ فیصل کی جانب قافلے کی صورت میں مارچ کیا جائے گا۔
پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے یہ اعلان پی آئی بی کالونی میں کے ایم سی گراؤنڈ پر ورکرز کے عمومی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کی سب سے زیادہ ضرورت سندھ کے شہری علاقوں میں ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جب قافلہ روانہ ہوگا تو شاہراہ فیصل کی طرف جانے والے تمام راستے بند ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق تحریک کے بارے میں مزید فیصلے اگلے اجتماع میں کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 30 ستمبر 1986 کو حیدرآباد میں مہاجروں کا قتل عام، سہراب گوٹھ اور قصبہ علی گڑھ کے واقعات بھی تحریک کو نہیں روک سکے۔ شرکا نے ہاتھ اٹھا کر ملک بھر میں نئے صوبوں کے مطالبے کی حمایت کی۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا: "ہمیں ایسی جمہوریت کی ضرورت نہیں جس کے ثمرات عام عوام تک نہ پہنچیں"۔
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم سے پاکستان کی شرح نمو میں اضافہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ 18 برس میں سندھ کو تباہ کیا اور چاروں صوبوں میں انتظامی یونٹس بننے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ یونٹس زبان یا لسانیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر بننے چاہئیں۔
ایک اور سینئر رہنما وسیم اختر نے کہا کہ یہ اجلاس صرف ضلع شرقی کے کارکنوں کا ہے اور پورا کراچی ابھی یہاں موجود نہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
نئے صوبوں کا مطالبہ، خصوصاً سندھ کے شہری علاقوں میں، قومی اور صوبائی سیاست پر اثر ڈال سکتا ہے۔ شاہراہ فیصل کی جانب جانے والے راستے بند کرنے کے اعلان سے کراچی کے شہری بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔



