ابھی ابھیپنجاب کی کمیٹی نے قانونی اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تفصیلات طلب کرلیںشاہراہِ فیصل پر کسی جماعت کو جلسے کی اجازت نہیں ہوگی، شرجیل میمنابوظہبی میں 10 اور 11 نومبر کو امریکی ثالثی میں روس یوکرین مذاکرات
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

لاہور ہائیکورٹ کا اہل ڈیلی ویجز ہیلتھ ملازمین کو مستقل ورکر کا درجہ دینے کا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کے اہل ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل ورکر قرار دینے کا فیصلہ دیا ہے۔ عدالت نے انہیں مستقل نہ کرنے کا پنجاب حکومت کا فیصلہ کالعدم کر دیا۔

This is a photo of a monument in Pakistan identified as the
This is a photo of a monument in Pakistan identified as the تصویر: MariyamAftab / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • جسٹس خالد اسحاق نے محمد بلال رضا اور دیگر کی درخواست سمیت 26 آئینی درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔
  • مستقل نوعیت کے کام میں مسلسل نو ماہ سے زائد خدمات انجام دینے والے ملازمین مستقل ورکر کہلانے کے حق دار ہیں۔
  • عدالت کے مطابق مستقل ورکر کا درجہ سرکاری ملازم کا درجہ نہیں ہے۔
9 ماہ سے زائداہلیت کے لیے مسلسل خدمت
26 صفحاتتحریری فیصلہ
89 دنبار بار تقرری کی مدت

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کے اہل ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل ورکرز کا قانونی درجہ دے دیا ہے۔ عدالت نے اہل ڈیلی ویجز، ورک چارجڈ اور کنٹیجنٹ پیڈ ملازمین کو مستقل نہ کرنے کا پنجاب حکومت کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیا۔

جسٹس خالد اسحاق نے محمد بلال رضا اور دیگر کی درخواست سمیت 26 آئینی درخواستوں پر 26 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواستوں کی تعداد ایک رپورٹ میں 25 اور دوسری میں 26 بتائی گئی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ مستقل نوعیت کے کام میں مسلسل نو ماہ سے زائد خدمات انجام دینے والے ملازمین کو مستقل ورکر قرار دیا جانا چاہیے۔ مستقل ورکر کا قانونی درجہ حاصل کرنے کے لیے الگ نوٹیفکیشن ضروری نہیں۔

فیصلے کے مطابق پنجاب حکومت کی 2021 کی پالیسی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز پر لاگو ہوتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ خود مختار ادارے ہونے کے ناطے یہ اتھارٹیز حکومتی پالیسی لاگو کرنے سے انکار نہیں کر سکتیں۔

عدالت نے کہا کہ 89 دن کی بار بار تقرریاں کام کی مستقل نوعیت کو تبدیل نہیں کر سکتیں، اور ملازم کی قانونی حیثیت کا تعین تقرری کے نام سے نہیں بلکہ کام کی نوعیت اور مدت سے ہوتا ہے۔ کچھ ملازمین کو مستقل ورکر سمجھنا اور دوسروں کو نہ سمجھنا امتیازی سلوک ہے۔

جسٹس خالد اسحاق نے کہا: "ایک جیسے حالات میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ مختلف سلوک آئین کے آرٹیکل 25 کے منافی ہو سکتا ہے"۔

عدالت کے مطابق زبانی احکامات پر برطرفی قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں، تحریری حکم نامہ وجوہات کے ساتھ ضروری ہے۔ کسی بھی منفی کارروائی سے پہلے ملازمین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع دینا لازم ہے۔

انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ (اسٹینڈنگ آرڈرز) آرڈیننس 1968 کے تحت اہل ملازمین، بشمول ڈیٹا انٹری آپریٹرز اور سینیٹری ورکرز، مستقل ورکرز کے حقوق کے حق دار ہیں۔ اس سے وہ سرکاری ملازم نہیں بنتے اور نہ ہی سول سروس میں خودکار طور پر مستقل ہوتے ہیں۔ متعلقہ حکام واجبات اور تنخواہوں کا تعین الگ سے کریں گے، اس سے پہلے ملازمین کو سنا جائے گا، اور عدالت نے کہا کہ اس میں کام نہیں تو تنخواہ نہیں کے اصول کو مدنظر رکھا جا سکتا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

اس فیصلے کا اثر پنجاب کے ان ہزاروں ڈیلی ویجز ہیلتھ ملازمین پر پڑتا ہے جو مستقل ملازمت چاہتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اہل ملازمین مستقل ورکر کے حقوق مانگ سکتے ہیں، تاہم انہیں سرکاری ملازم کا درجہ نہیں ملے گا۔

غلطی کی نشاندہی کریں

لاہور ہائیکورٹڈیلی ویجز ملازمینپنجاب صحت

اس خبر پر مزید