حکومت کی پی ٹی آئی کو 30 رکنی انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت کی دعوت
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے تحریک انصاف کے چیف وہپ کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شامل ہونے کی پیشکش کی ہے۔ ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ وہ پیشکش مسترد نہیں کر رہے اور پارٹی مشاورت سے فیصلہ کرے گی۔

- ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پی ٹی آئی کو کمیٹی میں شمولیت کی دعوت دی
- کمیٹی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے 30 اراکین پر مشتمل ہے
- ملک عامر ڈوگر کے مطابق پارٹی مشاورت کے بعد فیصلہ کرے گی
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف کو انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ روزنامہ جنگ اور منٹ مرر کے مطابق یہ دعوت قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر کو دی گئی۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ 30 رکنی کمیٹی کا حصہ بنے، جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین شامل ہیں۔ ان کے مطابق کمیٹی کے قیام کی تحریک قومی اسمبلی میں پہلے ہی منظور ہو چکی ہے۔
چوہدری نے کہا کہ کمیٹی کا مقصد آئندہ انتخابات کو غیر متنازع بنانا ہے۔ منٹ مرر نے اس مقصد کو آئندہ انتخابات کی شفافیت قرار دیا۔
ملک عامر ڈوگر نے کمیٹی کو اچھا قدم قرار دیا۔ روزنامہ جنگ کے مطابق انہوں نے کہا: "میں اس آفر کو مسترد نہیں کررہا"۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔
اسی پروگرام میں چوہدری نے پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر احتیاط کا مشورہ دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پارٹی قیادت کے فیصلوں کو ویٹو کرتے رہے ہیں، اور دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کا اس وقت کوئی ایسا لیڈر نہیں جس پر سب متفق ہوں۔
چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ آخری آپشن کے طور پر کیا گیا۔ روزنامہ جنگ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے تعاون سے انکار کے بعد ایمرجنسی نافذ کی گئی۔
ڈوگر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پارٹی اجلاس میں سہیل آفریدی پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کا خاتمہ چاہتی ہیں۔
چوہدری نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد ملک کی پہلی بااختیار انتظامی اکائی بنے گا، جس کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہوگی اور تمام محکمے ایک چھت تلے ہوں گے۔
یہ کیوں اہم ہے
انتخابی اصلاحات کمیٹی کے فیصلے آئندہ پاکستان میں انتخابات کے انعقاد پر اثر ڈالیں گے۔ مرکزی اپوزیشن جماعت کی شمولیت سے اس عمل کا دائرہ متاثر ہوتا ہے۔



