ابھی ابھیجولائی تا اکتوبر سیمنٹ کی برآمدات 9.51 فیصد کم، ملکی فروخت میں اضافہآسان ٹیکس اسکیم میں رجسٹر نہ ہونے والے دکانداروں پر جرمانوں کا منصوبہپشاور ہائی کورٹ نے سہیل آفریدی کی حراست کا کیس بڑے بینچ کے لیے چیف جسٹس کو بھیج دیا
پاکستان11 ذرائع سے تصدیق شدہ

سی ڈی اے کا فضل الرحمان کی اسلام آباد رہائشگاہ پر تجاوزات ہٹانے کا 15 روزہ نوٹس

کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد رہائشگاہ پر مبینہ تجاوزات کا نوٹس جاری کیا ہے۔ تجاوزات ہٹانے کے لیے 15 دن دیے گئے ہیں، بصورتِ دیگر عمارت سیل یا ڈھانچے مسمار کیے جا سکتے ہیں۔

Parliament House Building Islamabad Pakistan
Parliament House Building Islamabad Pakistan تصویر: Mhtoori / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • نوٹس میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ہٹانے کے لیے 15 دن دیے گئے
  • نوٹس میں گارڈز کیبن، جنریٹر اور اضافی کچن کا ذکر ہے
  • اسجد محمود نے کارروائی کو انتقامی اور طلال چوہدری نے معمول کی کارروائی قرار دیا
15 دنتجاوزات ہٹانے کی مہلت
18 مارچ 2019سی ڈی اے کی سابقہ ہدایت

کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے جمعہ کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد میں رہائشگاہ پر مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کا نوٹس جاری کیا۔ ایکسپریس ٹریبیون اور دیگر اداروں نے یہ خبر دی ہے۔

نوٹس عمارت کے مالک امان اللہ ولد محمد یونس کے نام ہے۔ اس میں سی ڈی اے کی زمین پر قائم سکیورٹی گارڈز کے کیبن اور جنریٹر ہٹانے کی ہدایت کی گئی ہے اور تجاوزات ہٹانے کے لیے 15 دن دیے گئے ہیں۔

نوٹس میں رہائشگاہ کے اندر بنائے گئے اضافی کچن کو بھی بلڈنگ ضوابط کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ عمل نہ ہونے کی صورت میں عمارت سیل کی جا سکتی ہے یا غیر قانونی ڈھانچے گرائے جا سکتے ہیں۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سی ڈی اے نے اس سے قبل 18 مارچ 2019 کو بھی رہائشگاہ سے تجاوزات ہٹانے کی ہدایت کی تھی۔

روزنامہ جنگ کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ یہ نوٹس اسلام آباد بھر میں جاری انسدادِ تجاوزات مہم کے تحت معمول کی کارروائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہدا اور ریاست سے متعلق بیان کی وضاحت فضل الرحمان خود کریں تاکہ معاملہ آگے بڑھ سکے۔

فضل الرحمان کے بیٹے اور جے یو آئی (ف) کے رہنما اسجد محمود نے کارروائی کو انتقامی قرار دیتے ہوئے اسے والد کے حکومت سے سیاسی اختلافات سے جوڑا۔ انہوں نے کہا: "سیاسی اختلافات کو ذاتی انتقام میں تبدیل کرنا قابل تشویش ہے"۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اسجد محمود نے کہا کہ انتقامی اقدامات اس وقت شروع ہوئے جب تجاوزات کی نشاندہی پشاور کے کور کمانڈر سے کی گئی۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق انہوں نے کارکنوں کو باخبر اور چوکس رہنے کی ہدایت کی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ نوٹس حکومت اور فضل الرحمان کے درمیان کشیدگی کے دوران آیا ہے۔ ایک دن قبل وفاقی وزرا نے ان پر تنقید کی تھی جبکہ فضل الرحمان خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد حکومت پر مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگا چکے ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ نوٹس ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد میں تعمیراتی ضوابط اور انسدادِ تجاوزات قوانین ایک نمایاں پارٹی رہنما کے گھر پر کیسے لاگو کیے جاتے ہیں، جبکہ ان کی جماعت اور حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی جاری ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

فضل الرحمانسی ڈی اےجے یو آئی (ف)

اس خبر پر مزید